جو کچھ ہوا اسے سویلین مارشل لا قرار دیا جا سکتا ہے،سپریم کورٹ میں رضا ربانی کے دلائل
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔عدالت میں پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں، دلائل میں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ملک کے جو حالات ہیں اس پر آج ہی کوئی مختصر حکم جاری کریں، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ پہلے ہم سب کو سنیں گے،پھر دیکھیں گے۔
رضاربانی نے کہا کہ سیکریٹریٹ کوموشن جمع ہونے کے باوجود ممبرز کو نوٹس جاری کرنے چاہیے ، جمع کرائی گئی ریکیوزیشن پر14 دن میں اجلاسں بلانا تھا جو نہیں بلایا گیا، 25 مارچ سے 3 اپریل تک اجلاس بلا کر جس طرح کارروائی چلائی گئی یہ بدنیتی ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک استثنی ہے، جو کچھ ہوا اس کو سویلین مارشل لا ہی قرار دیا جا سکتا ہے، سسٹم نے ازخود ہی اپنا متبادل تیار کر لیا جو غیرآئینی ہے، 28مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگر کارروائی ملتوی کر دی گئی، جو کچھ ہوا وہ سویلین مارشل لا ہے جو ہائبرڈ سسٹم کے تحت لگایا گیا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے تحریری دلائل میں لکھا ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی؟ رضا ربانی نے معذرت کرتے ہوئے کہ غلطی سے ٹائپ ہو گیا ہوگا۔
رضاربانی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اسمبلی رولز اور آئین کے منافی ہے، تحریک پیش ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔ 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگرکارروائی ملتوی کر دی گئی، ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ پڑھی اور تمام ارکان کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا، ڈپٹی ا سپیکر نے یہ بھی اعلان نہیں کیا تھا کہ تفصیلی رولنگ جاری کرینگے۔رضا ربانی نے مزید کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس بنیاد پر رولنگ دی کچھ نہیں بتایا گیا، ڈپٹی اسپیکر کے سامنے عدالتی حکم تھا نہ ہی سازش کی کوئی انکوائری رپورٹ، ڈپٹی اسپیکر نے تحریری رولنگ دیکر اپنی زبانی رولنگ کو غیر موثر کر دیا، ڈپٹی ا سپیکر کی رولنگ آئین کے خلاف ہے، اسمبلی توڑنے کی سمری پرصدر نے عجلت میں دستخط کیے، صدر نے سمری واپس بھیج کر اعتماد کے ووٹ لینے کا کہنا تھا۔
الیکشن کمیشن کہہ چکا ہے کہ وہ اس وقت الیکشن کرانے کے لیے تیار نہیں، کیا اسپیکر عدالتی فائڈنگ کے بغیر رولنگ دے سکتے تھے؟ وزیر اعظم نے اپنے بیان میں تین آپشن کی بات کی، تین آپشن والی بات کی اسٹیبلشمنٹ نےتردید کی۔دلائل مکمل ہو جانے پر چیف جسٹس نے رضا ربانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا آپ کے دلائل بہت اچھے تھے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ وکلا جلدی دلائل مکمل کریں تاکہ فیصلہ دیا جاسکے۔مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 28 مارچ کو قرادار پیش کرنے کے معاملے پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ جس کے بعد عدالت نے اکتیس مارچ اور تین اپریل کے اجلاس کی کاروائی کے منٹس طلب کرلئے، چیف جسثس نے کہا کہ نعیم بخاری آپ اسپیکر کے وکیل ہیں منٹس منگوا لیں۔
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ سارا کیس ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے اختیار سے متعلق ہے، یہ پروسیجرل ایشو نہیں بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے، آرٹیکل 95 کے طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا۔ وزیراعظم اکثریت کھو دیں تو یہ پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے کہ وہ وزیراعظم رہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر کب کیا ہونا ہے یہ رولز میں ہے آئین میں نہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ رولز بھی آئین کے تحت ہی بنائے گئے ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین اورقوائد و ضابط کیا کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہو تو کیا کیا جائے؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ قوائد وضوابط آئین کے ماتحت ہوتے ہیں اس حوالے سے عدالت کے کئی فیصلے موجود ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک بار عدم۔اعتماد کی تحریک پیش ہوجائے تو پہر رولز اپنا کام شروع کرتے ہیں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ووٹنگ نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی کیسے ہوگئی؟ آئین کے مطابق سات دن میں عدم اعتماد پر ووٹنگ ضروری ہے، اگر کسی وجہ سے ووٹنگ آٹھویں دن ہو تو کیا غیرآئینی ہوگی؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ سپیکر کی رولنگ قانونی ہے یا غیر قانونی، رولز کی باتیں ٹھیک ہیں مگر سپیکر کی رولنگ کا بتائیں۔ کیا عدالت سپیکر کی رولنگ کا جائزہ لے سکتی ہے؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ غیر آئینی ہے اور سپریم کورٹ اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر اکثریت کی رائے کو نظر انداز کرتے ہیں تو پہر رولنگ غیر قانونی ہے۔
مخدوم علی خان نے دلائل میں کہا کہ ڈپٹی سپیکر کو تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں، اسمبلی رولز آئین کے آرٹیکل 95 سے بالاتر نہیں ہو سکتے، ڈپٹی سپیکر آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، اسمبلی میں ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں ہو سکتی، ججز کنڈکٹ پر بات نہ کرنا آئین اور اسمبلی قواعد کا حصہ ہے، اسمبلی کے رولز آئین پر عملدرآمد کیلئے بنائے گئے ہیں، ججز کنڈکٹ پر بات کرنے والا رکن آرٹیکل 68 کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 95 میں صرف تحریک عدم اعتماد اور اس پر ووٹنگ کا ذکر ہے، تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے تمام طریقہ کار اسمبلی رولز میں ہے، چیف جسٹس نے 31 مارچ کا ڈپٹی اسپیکر کا آرڈر طلب کر لیا۔
ن لیگ کے وکیل نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سپیکر کے علاوہ پورا ایوان وزیراعظم کیخلاف ہو، کیا ایوان خلاف ہو اور سپیکر پھر بھی عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے؟ ایک شخص ایوان کی اکثریت کو سائڈ لائن نہیں کر سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے اس نقطے پر مطمئن کریں کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ صرف قواعد کی خلاف ورزی نہیں۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری سے پہلے اسکی وجوہات دیکھی جا سکتی ہیں؟ مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے وجوہات بتانا ضروری نہیں ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر سپیکر کیخلاف بھی عدم اعتماد تحریک جمع ہو تو کیا ڈپٹی سپیکر ،سپیکر کے سارے اختیارات استعمال کر سکتا ہے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے پاس اختیارات محدود ہیں، رولز کے مطابق ڈپٹی سپیکر تحریک مسترد کرنے کی رولنگ نہیں دے سکتا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا سپیکر نے ڈپٹی سپیکر کو اختیارات تفویض کئے تھے؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ آرٹیکل 73 کے تحت سپیکر ڈپٹی سپیکر کو پاور منتقل کرنے کیلئے سرٹیفکیٹ دیتا ہے،موجودہ کیس میں سپیکر نے ڈپٹی سپیکر کو کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت کا فوکس صرف ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر ہے، عدالت کی ترجیح ہے کہ صرف اس نقطے پر ہی فیصلہ ہو، صرف دیکھنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے یا نہیں، عدالت ریاستی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، عدالت نے صرف اقدامات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے،عدالت پالیسی معاملات کی تحقیقات میں نہیں پڑنا چاہتی۔ تمام فریقین کو کہیں گے کہ اس نقطے پر ہی فوکس کریں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت فی الحال صرف آئینی معاملات کو دیکھنا چاہتی ہے، عدالت چاہے تو حساس اداروں سے بریفنگ لے سکتی ہے۔


