وزیراعظم کے انتخابات کا بائیکاٹ پی ٹی آئی اراکین نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا

اسلام آباد:پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مجھے وزیراعظم کا امیدوار نامزد کرنے پر میں عمران خان اور پی ٹی آئی کی پوری قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی باقی جماعتوں کی نسبت ایک نئی جماعت ہے لیکن ہم نے پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ آج ہمارے مخالفین ہمارے خلاف ایک ہوگئے ہیں لیکن ان کے نظریات میں کوئی ہم آہنگی اور اتفاق رائے نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف اتحاد کرنے والے ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کاررائیاں کرتے رہے ہیں ایک دوسرے پر بد ترین الزامات لگاتے رہے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں، ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت نکالنے کی بات کرتے رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قوم کو خودداری دی۔

شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ قوم پر مسلط کیے جا رہے ہیں، ایک عارضی بندوبست کر کے جوڑ توڑ کرکے وزیراعظم بننے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ اتحاد اور یہ بندوبست زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔

ان کا کہنا تھاکہ آج 11 اپریل ہے، آج نامزد وزیر اعظم کی عدالت میں پیشی تھی، ان پر آج فرد جرم عائد ہونی تھی، آج اس پیشی سے فرار حاصل کیا جا رہا ہے، اب ان کیسز کو دفن کیا جائے گا، اور اگر ایسا کیا جاتا ہے تو پھر ایک بات اور ثابت ہوجائے گی کہ عوام کے لیے ایک قانون اور خواص کے لیے دوسرا قانون ہے اور اسی نا انصافی کے خلاف پی ٹی آئی معرض وجود میں آئی تھی۔

شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر کے دوران اپنے سابق اتحادیوں پر بھی تنقید کی، ایم کیو ایم سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر انہیں گورنرشپ یا اس طرح کے کچھ عہدوں کی ضرورت تھی تو وہ یہ عہدے پی ٹی آئی سے بھی حاصل کرسکتے تھے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پاکستان بھر میں احتجاج کیا، پاکستان کے شہر شہر، قریہ قریہ، گاؤں، گاؤں عمران خان کے حق میں اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے ہوئے، پاکستان بھر میں عوام سڑکوں پر نکلے اور بتادیا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کے لیے محنت کی، انہوں نے ملک کی معشیت مستحکم کیا، آج بھی ہم شرح نمو 5 فیصد کے قریب چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان انگریزی بول سکتے ہیں لیکن عالمی سطح پر اپنی قومی زبان میں پاکستان کی نمائندگی کی، وہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تو پاکستان کی ثقافت کا حصہ پشاوری چیپل پہن کر ملے، جب عمران خان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے روس میں ملے تو پاکستانی لباس شلوار قمیص پہن کر ملے۔

اس سے قبل اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک، نعت رسولﷺ اور قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 91 کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب قومی اسمبلی کے قوائد و ضوابط (2007) کے قاعدے 32 کے تحت کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق نئے منتخب وزیراعظم آج رات عہدے کا حلف اٹھائیں گے، صدر مملکت نئے وزیراعظم سے حلف لیں گے۔

ذرائع کے مطابق حلف برداری کی تقریب رات 8 بجے ایوان صدر میں ہو گی جو پی ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی جانب سے اتوار کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے آج قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان قومی اسمبلی کو وزیراعظم کے انتخاب سے متعلق ہدایات کے لیے پارٹی کے سکیرٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے خط لکھ دیا گیا۔

خط میں تمام ارکان کو وزیراعظم کے الیکشن کے دوران ایوان میں حاضر ہونے اور شاہ محمود قریشی کو ووٹ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

خط میں ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ ارکان پارلیمانی اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں، پارٹی پالیسی پر عمل نا کرنے والے رکن کے آرٹیکل 63 اے تحت کاروائی ہوگی، خلاف ورزی کرنے والے پارٹی سے برخاست اور قومی اسمبلی کی نشت سے نا اہل کردیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں