ملک میں سیاسی تبدیلی

سابق وزیراعظم عمران خا ن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی نے شہباز شریف کو ملک کا 23واں وزیراعظم منتخب کرلیا۔شہباز شریف متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تھے جبکہ ان کے مد مقابل شاہ محمود قریشی کے بائیکاٹ کیا تھا نئے وزیراعظم کا انتخاب جہاں ایک طرف جمہوری عمل کا تسلسل ہے وہاں دوسری طرف تحریک انصاف کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشستوں سے استعفیٰ ایک افسوسناک عمل ہے جبکہ ملک اور جمہوریت کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔تحریک انصاف کے باوقار اور حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرلینا چاہیے تھا۔کیونکہ یہ جمہوریت کی روایت ہے آج کی حکومت کل کی اپوزیشن ہے۔جیسے کہ حالیہ عدم اعتماد اور قائد ایوان کے انتخاب سے ثابت ہوا تحریک انصاف نے عوامی مزاہمت کا جو اعلان کیا اگر چہ یہ اس کا بنیادی حق ہے لیکن بادی النظر میں اس کا طرز عمل سپورٹس مین سپرٹ کا غماز نہیں ہے۔تحریک انصاف کافیصلہ میں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔جمہوریت کے منافی روایات کا منافی فیصلہ ہے۔پاکستان کی معیشت انتہائی زبوں حال ہے وہاں مجموعی حالات بھی انتہائی مخدوش ہیں اس صورتحال نے عوام کو ایجیٹیشن پر اکسانا اور اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لانا ملک کی کوئی خدمت نہیں ہے۔اس سے افراتفری انتشار اور انار کی بڑھ جائے گی لہذا تحریک انصاف کو چاہیے وہ قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا فیصلہ واپس لیں اور ایوان میں آکر اپوزیشن کا باوقار کردار ادا کرے۔دریں اثناء نومنتخب وزیراعظم کا مبینہ دھمکی آمیر مراسلہ کو قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کرنے اور انہیں ان کمرہ بریفنگ دینے کا فیصلہ بھی خوش آئندہے اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اس کے علاوہ نئے وزیراعظم کا ان حالات میں اقتدار سنبھالنا ایک بہت چیلنج ہے اور اس سے نمٹنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں جن عزائم کا اظہار کیا ہے وہ خوش آئند ہے۔توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے یہ پروگرام پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں