بلوچوں کے بچے ننگے پیر ہیں

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان بانیان پاکستان میں شامل تھے، محمد علی جناح کے رفقاء میں سے ایک تھے۔راولپنڈی کے کمپنی باغ (جو اب انہی کے نام سے ”لیاقت باغ“ موسوم ہے) میں قتل کردیئے گئے۔قاتل جلسہ گاہ میں پہلے سے موجود تھا،باآسانی پکڑا جاسکتا تھا،لیکن پکڑنے کی بجائے ایک پولیس افسر کے ہاتھوں چند سیکنڈوں میں مارا گیا۔قاتل کی لاش کے ساتھ ”سازش“ کے تمام راز بھی دفن ہوگئے۔اس کے بعد پے در پے اتنے وزیر اعظم گھر بھیجے گئے کہ بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرونے طنزاً کہا: ”میں نے اتنی دھوتیاں نہیں بدلیں جتنے پاکستان میں وزیر اعظم تبدیل ہو گئے ہیں“۔مستقبل کا مؤرخ شاید بہت سے سربستہ رازوں پر سے پردہ اٹھا سکے کہ پاکستان دولخت ہونے کی وجوہات کیا تھیں؟اس لئے کہ جسٹس حمودالرحمٰن کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ پاکستان میں آج تک شائع نہیں ہوئی۔بھارت میں چھپنے والی رپورٹ کی صداقت مشکوک ہے۔اگر یہ رپورٹ پاکستان میں بروقت شائع ہوجاتی تو بہت سارے سوالوں کا جواب مل چکا ہوتا،بچے ہوئے پاکستان کے عوام اور حکمرانوں کو علم ہوجاتا کہ کون سی سیاسی اور معاشی ناانصافیوں کے باعث دشمنوں کو رمضان کے مقدس مہینے میں تشکیل پانے والے ”اسلامی“ ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا موقع ملا،سقوط ڈھاکہ کے تکلیف دہ اور افسوسناک مناظر تاریخ کا حصہ بنے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے بعد موجودہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکو ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں لیاقت باغ سے چند فرلانگ دور واقع راولپنڈی جیل میں ”تارا مسیح“ نے پھانسی دے دی۔جس حکمران کی خوشنودی کے لئے وہ خود بھی دیگر جرنیلوں اور امریکی سفیر کے ہمراہ طیارے کے پراسرار ”حادثے“میں قتل کر دیئے گئے۔آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جلتے ہوئے طیارے کا زمین پر گرنا ”حادثہ تھا یا سازش تھی؟“،جبکہ یہ اطلاع پہلے ہی گشت کر رہی تھی کہ 14اگست کے بعد کا ہفتہ پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی دو روز قبل کہہ چکے تھے کہ ہم پاکستان کو ایسا سبق چکھائیں گے کہ چھٹی کا دودھ یا د آ جائے گا۔حادثات بلاسبب رونما نہیں ہوتے، کہا جاتا ہے کہ وقت حادثے کی برسوں پرورش کرتا ہے، حدثہ دفعتاً نہیں ہوتا۔پاکستان کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کسی ایک ”حادثے“ کا کھوج نہیں لگایا جا سکا۔لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرکے باہر نکلتے ہوئے سابق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، صدر مملکت اور وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کی صاحبزادی اور سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو بھی سفاک قاتلوں کے ہاتھوں قتل کر وا دی گئیں، ان کے قاتلوں کا کھوج بھی آج تک نہیں لگایا جا سکا۔اس سے پہلے ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو بھی کراچی میں کراچی پولیس کے ہاتھوں قتل کئے جا چکے تھے۔ دوسرے بھائی شاہنواز بھٹوبیرونِ ملک پیرس میں پراسرار حالات میں مارے گئے، یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ ان کی موت کا سبب کیا تھا؟اب 9اور10اپریل کی درمیانی شب عدم اعتماد کی قرارداد قومی اسمبلی میں منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے اپنی نجی رہائشگاہ بنی گالہ جانے والے سابق وزیر اعظم بھی گلی گلی، شہر شہر عوام کو بتا رہے ہیں کہ ان کی حکومت کا خاتمہ بھی ایک غیر ملکی سازش ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف واحد ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے وزیر اعظم ہاؤس سے نکلتے وقت پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ ججز کا نام لے کر سوال کیا تھا:”مجھے کیوں نکالا“؟جبکہ پی پی پی کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ لاہور کے وزیر اعظم کو عدالت سے جو جواب ملتا ہے وہ لاڑکانہ کے وزیر اعظم کو نہیں ملتا۔ اس شکایت کی تائید ایک سے زائد مقدمات کے فیصلوں میں دیکھی جا سکتی ہے،بعض نظیریں لوگوں کے حافظے میں بھی موجود ہیں۔ملک میں حکومتوں کی قبل از وقت تبدیلی کے پس پردہ عوامل سے عام آدمی کو باخبر رکھا جائے، کیوں کہغیرملکی یا ملکی قرضوں کی ادائیگی صرف اور صرف عوام کو اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر، انہیں بھوکا سلاکر اپنی کمائی سے ٹیکسوں کی شکل میں کرنی پڑتی ہے۔غیر ملکی اشاروں پر ناچنے والے حکمران بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی ناقابل برداشت اذیت سے معجزانہ طور پر بچے رہتے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیوں سے معاہدے کرتے وقت بھی یاد رہے۔سیندک اور ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کے پرانے اور نئے معاہدوں کا سنجیدگی سے تجزیہ اور موازنہ کیا جائے۔بجلی پیدا کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں سے کئے گئے معاہدوں میں عام آدمی کے مفادات کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا؟ یہ بھی بتایا جائے کہ بلوچوں کے پیروں تلے سونے کا ذخائر ہیں، مگر بلوچوں کے بچے (اور بڑے بھی) ننگے پیر ہیں۔ انہیں پینے کوصاف پانی اور کھانے کو ضرورت بھر غذا نصیب نہیں ہو رہی۔تعلیم کی فراہمی حکمرانوں کے ذہن میں ثانوی ترجیح سمجھی جاتی ہے۔چاروں صوبوں کے عوام ایک جیسے عذاب سے دوچار ہیں۔اس تکلیف دہ منظر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، تبدیل کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں