قبلہ اول پر حملہ کیخلاف مسلم امہ کا احتجاج، پابندی کے باوجود 50 ہزار نمازیوں کی آمد

مقبوضہ المقدس، دمشق، اسلام آباد، عمان، قاہرہ، ریاض، استنبول، تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)قبلہ اول پر صہیونی دہشتگرد فورسز کے حملے پر مسلم امہ اٹھ کھڑی ہوئی ‘مسجد اقصیٰ میں روزہ دارں پر اسرائیلی تشدد کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ‘ وزیراعظم پاکستان کی مسجد اقصیٰ پر حملے کی مذمت‘عالمی برادری سے معصوم فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ “لاقصیٰ کا دفاع کریں گے، القدس میں آبادکاروں کیلئے کوئی جگہ نہیں‘ھنیہ….‘اسرائیلی دہشتگردی ‘مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا تشدد‘ 224 روزہ دار زخمی‘470 گرفتار ہوئے ‘ پابندیوں کے باوجود 50 ہزار نمازیوں کی قبلہ اول پہنچ گئے۔ انہوں نے عرب ممالک اور اسلامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملوں کو روکیں اور عالمی برادری سے قابض کو روکنے کے لیے مداخلت کریں۔مصری وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر احمد حافظ نے اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بولنے اور اس کے بعد ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تشدد کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ایک بیان میں سفیر حافظ نے مسلمان نمازیوں کے لیے خود پر قابو پانے اور مکمل تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور انہیں مسجد اقصیٰ میں اسلامی رسومات ادا کرنے کی اجازت دینے کی ضرورت پر زور دیا جو مسلمانوں کے لیے خالصتاً اسلامی عطیات ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے "تشدد اور اشتعال انگیزی کو اس کی تمام شکلوں میں مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔ ان ک کہنا تھاکہ رمضان عبادت کا مہینہ ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی قبلہ اول پر چڑھائی فلسطینیوں کو مشتعل کرنے کی مذموم کوشش ہے۔جمعے کے روز اردن اور فلسطین نے خبردار کیا کہ مقبوضہ شہر القدس میں مسجد اقصیٰ میں ہونے والی کشیدگی "صورتحال کو مزید کسی بڑی تباہی تک پہنچنے کے خطرات سے خبردار کیا۔اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی مرکزی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حسین الشیخ کے درمیان فون پر بات چیت کی گئی جس میں مسجد اقصیٰ کی تازہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔مسجد اقصیٰ میں ماہ صیام کے دوسرے جمعے کےموقعے پر ہونے والے تشدد پر سعودی عرب ، پاکستان، ترکی،اسلامی جمہوریہ ایران اور دوسرے مسلمان اور عرب ممالک کی طرف سے مذمت کی گئی ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے قبلہاول مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر صہیونی مسلح افراد کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے مسجد اقصیٰ پر حملہ قابل مذمت اور پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے‘ عالمی برادری معصوم فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کرائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملہ قابل مذمت اور پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ، ہم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھرے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان نے مزید کہا کہ عالمی برادری لمحہ آگیا ہے کہ وہ معصوم فلسطینیوں کی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کرائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں