خضدار، قتل، اقدام قتل سمیت متعدد وارداتوں میں ملوث مجرمان راتوں رات رہا

خضدار (نامہ نگار) خضدار انتظامیہ کا بہت بڑا بلنڈر، مبینہ طور پر قتل، اقدام قتل اور چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث مجرمان راتوں رات رہا، پولیس کو مطلوب ملزمان کو لیویز نے پولیس کے علم میں لائے بغیر آزاد کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خفیہ کارروائی اور خفیہ رہائی محض چند گھنٹوں پر محیط رہی، انتظامیہ سے جڑے باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دو اہم جگہوں سے کالآئی جس کے بعد مصلحتوں کا شکار انتظامیہ کو اہم مجرم رہا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق 15فروری کو سابق ایس ایس پی خضدار ارباب امجد کاسی نے ایک اہم پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایاکہ ایس ایچ او صدر، عطاء اللہ جاموٹ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرکے دو اہم ملزمان اسرار اور عطااللہ کو گرفتار کیا۔ ملزمان نے دوقتل سمیت بیس کرائمز کی وارداتوں کا اعتراف کرلیاہے۔ جبکہ ملزمان نے ان وارداتوں میں ملوث اپنے دیگر پانچ ساتھیوں کا بھی نام اْگل دیا ہے۔ لیکن ڈراپ سین اس وقت ہوا کہ ان پانچ مطلوب ملزمان میں سے ایک جنہیں ان ڈکیتوں کا سرغنہ کہاجاتاہے۔ اس ملزم کو تقریباً چار روز قبل لیویز نے ایک چھاپہ مار کارروائی میں دو دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا تھا، مگر خضدار انتظامیہ نے راتوں رات انہیں خفیہ طور پر رہائی کا پروانہ بھی جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق اس اہم کارروائی اور رہائی کو اتنا مخفی رکھاگیاکہ خضدار پولیس کو بھی یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ان کا ایک انتہائی مطلوب ملزم لیویز کی تحویل میں ہے۔ اس سے متعلق نمائندہ "انتخاب” نے ڈپٹی کمشنر خضدار میجر (ر) الیاس کبزئی سے جب ان کا مؤقف جاننے کیلیے رابط کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کیا، انباکس اور وٹساپ میسچ کیا گیاکہ وہ اپنا مؤقف دیں لیکن میسچ سین کرنے کے باجود انہوں نے مؤقف دینے کی زحمت نہیں کی۔ ڈپٹی کمشنر خضدار کا موقف دینے سے پہلوتہی کرنے کے بعد نمائندہ "انتخاب” اسسٹنٹ کمشنر خضدار جہانزیب نور شہوانی سے رابطہ کیا اور ان سے سوال کیاگیا کہ اتنے بڑے ملزم کو آخر کس طرح فوری طور پر رہائی ملی، تو انہوں نے مؤقف اختیار کیاکہ ہم نے ایک چوری کی وارادت میں ملوث ہونے پر شک کی بنیاد پر کارروائی کی تھی لیکن ملزم کی گرفتاری کے بعد جب تحقیق کی تو اس واردات میں یہ شخص ملوث نہیں تھا، بعد ازاں اس کو رہا کیاگیا۔ جب نمائند "انتخاب” نے اسسٹنٹ کمشنر سے یہ سوال کیاکہ پولیس نے تو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اس کو قتل اور اقدام قتل سمیت متعدد وارداتوں میں ملوث گردانا ہے اور یہ کہ پولیس کو یہ شخص انتہائی مطلوب ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر خضدار نے جواب دیاکہ ہمیں پولیس کی جانب سے ان کو حوالہ کرنے کیلیے نہ کوئی لیٹر لکھا گیا ہے اور نہ ہی اس سے قبل پولیس نے انہیں کوئی مراسلہ لکھاہو کہ انہیں مطلوب افراد ہمارے ایریا میں ہے۔ لہٰذا ہم نے اسی بنا ان کو رہا کردیا ہے۔ نمائندہ "انتخاب” نے حالیہ تعینات ہونے والے ایس ایس پی خضدار جاوید غرشین سے رابطہ کیا تو وہ اس سارے معاملے سے لاعلم نکلے، انہوں نے اس متعلق آگاہی دینے پر نمائندہ "انتخاب” کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کو دیکھ کر ایکشن لے گا اور اسسٹنٹ کمشنر سے بھی بات کی جائے گی کہ ان کے ایک مطلوب ملزم کو کس وجہ سے چھوڑ دیاگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں