معاملات سلجھانے میں وقت لگے گا
ویسے تو دنیا بھر میں ہر جگہ ایک پریشانی اور خلجان کا غلبہ ہے،لیکن تیسری دنیا میں حالات زیادہ ابتر ہیں۔ پاکستان کی سیاست خطے کی مخصوص صورت حال کی بناء پر نئی الجھنوں کا شکار ہے۔کابل سے امریکی انخلاء کے بعد انتہائی سرعت سے امریکی کیمپ کی طرف چھلانگ لگانا پاکستانی خواص اور عوام دونوں کے لئے یکساں طور پر حیران کن ہے جبکہ اس چھلانگ کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی۔وزیر اعظم شہباز شریف کا اچانک وزیر اعظم بننا ابھی تک ایک سوالیہ نشان ہے۔ایسے حالات میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وزارت قبول کرنے کی بجائے لندن چلے جانا بعض نئے سوالا ت چھوڑ گیا ہے۔ان میں یہ سوال بھی شامل ہے؛ کیا وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس محدود اختیارات ہیں؟ کابینہ بھی اپنی مرضی سے نہیں بنا سکتے؟ اختیارات کا مرکز بیرون پاکستان ہے؟یاد رہے کہ اتحادیوں کی اتنی بڑی تعداد ماضی میں کسی وزیراعظم کو نہیں ملی۔میڈیا اطلاعات کے مطابق پی پی پی کو شکایت ہے وزیر اعظم شہباز شریف اپنی اتحادی جماعتوں سے کئے گئے وعدے اور معاہدے پورے نہیں کر رہے جو انہوں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانے کے لئے تحریری طور پر کئے تھے اور پی پی پی تمام معاہدوں کی ضامن تھی، اور میڈیا کے روبرو دستخط بھی ہر قسم کے شکوک دور کرنے کی ایک علامت تھے۔ سردار اختر مینگل کی کابینہ میں عدم شمولیت بھی ایسے ہی تحفظات کے باعث ہے۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں بھی بڑی پارٹیوں کے مابین کئے گئے معاہدے ناکام رہے، ان معاہدوں میں لندن میں کیا گیا ”میثاقِ جمہوریت“ جیسا معاہدہ بھی شامل ہے۔ماضی کے تجربات کی ناکامی اگرسیاسی قائدین کو یاد ہوتی تو شاید وہ تازہ غلطی نہ کرتے۔واقفانِ حال جانتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست کسی ایک یا دوسرے حوالے سے ریموٹ کنٹرول ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی لندن روانگی اسی تأثر کو تقویت دیتی ہے۔سادہ الفاظ میں یہی کہا سکتا ہے کہ شہباز شریف کا آشیانہ بھی شاخ نازک پر ہے، ہوا کا تیز جھونکا اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔سیاست میں کوئی چیز پائیدار نہیں، پاکستان کے بارے میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا تبصرہ ہمارے سیاسی قائدین کو یاد ہونا چاہیئے، انہوں نے کہا تھا:”میں اتنی جلدی اپنی دھوتی تبدیل نہیں کرتا جتنی جلدی پاکستان میں وزیراعظم تبدیل ہوجاتا ہے“۔اس کا علاج پاکستان میں طویل مارشل لاؤں کی صورت میں تلاش کیا گیا تھا۔اگرایک بار پھرحکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ ماضی کی طرح شروع ہوگئی تو سیاستدان عوام کو کیا جواب دیں گے؟اس لئے کہ سیاست دان ہی وسط مدتی تبدیلی کا مرکزی کردار ہیں۔کیاایک بے اختیار وزیر اعظم موجودہ مشکل اور پیچیدہ حالات میں اپنے دعوے پورے کر سکے گا؟اس سوال کا جواب چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی واپسی کے بعد ملے گا۔ایم کیو ایم بھی وزارتیں ملنے کے باوجود کچھ اداس لگتی ہے۔بجٹ سازی سے پہلے ہی وزیر اعظم شہباز شریف عوام کو خبردار کر چکے ہیں کہ قرضوں میں کڑا ملک اپنی پسند کے فیصلے نہیں کر سکتا۔بجلی کی شرح میں اضافہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ورنہ شہباز شریف اس کی اجازت نہ دیتے۔ادھر ڈالر کے سامنے روپیہ بے بس دکھائی دے رہا ہے۔عین ممکن ہے آئی ایم ایف کے پاس کوئی دوسرا حل موجود نہ ہو۔ ورلڈ بینک نے بھی ڈالر کی قیمت مارکیٹ کے مطابق طے کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اصل صورت حال پاکستانی ٹیم کو آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران معلوم ہوگی۔آئی ایم ایف اگر کوئی رعایت دے گا تو اس کے بدلے میں کچھ نہ کچھ ضرور مانگے گا، پاکستانی ٹیم پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرے گی مگر یہ بھی ایک تلخ صداقت ہے کہ قرض لینے والے فریق سے قرض دینے والافریق بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔پاکستان کی پوزیشن کمزور ہے، آئی ایم ایف کو شکایت ہے کہ پاکستان بہت سی شرائط پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ان میں بجلی اور پیٹرول کی قیمیں جون تک نہ بڑھانے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔آٹے کی قیمت میں رمضان کے دوران کمی بھی عارضی اور مشروط ہے،رمضان ختم ہوتے ہی فلور مل مالکان پرانی قیمت وصول کریں گے۔بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس اپنی کوئی قلیل مدتی معاشی پالیسی نہیں،سب کچھ خیالی ہے، امیدوں پر مبنی ہے۔اس کے معنے اس کے سوا دوسرے نہیں ہو سکتے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت نے مکمل سوچ بچار کے بغیر ہی سیاسی اور معاشی مسائل/ مشکلات کا ایک پہاڑ سر پر اٹھا لیا ہے۔اب پریشان ہے کہ کس سمت میں قدم بڑھائے اور کیسے بڑھائے؟ اس کے ساتھ ہی خطے کی تجارتی صورت حال کے بارے یہ رپورٹ بھی میڈیا پر آگئی ہے کہ چین مے بیلٹ اینڈروڈ کی مشترکہ تعمیر کے 49ملکوں کے ساتھ 200سے زائد دستاویزات پر دستخط کر دیئے ہیں۔پہلی سہ ماہی میں چین سے پورپ کے لئے 3ہزار6سو30مال بردار ٹرینیں چلائیں،تین لاکھ پچاس ہزار کنٹینرز کی لقل و حمل کی گئی۔گویا یورپی ممالکسے اس کے تجارتی روابط بدستور نہ صرف قائم ہیں بلکہ ان میں بہتری کے آثار


