مسجد اقصیٰ میں صہیونی فوجیوں کا دھاوا، فائرنگ اور شیلنگ سے 43 نمازی زخمی
یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک) مسجد اقصیٰ میں صہیونی فوجیوں کی جارحیت‘ فلسطینیوں کو نماز کی ادائیگی سے روک کر مسجد اقصیٰ پر دھاوابول دیا‘نمازیوں پر دستی بم پھینکے گژے‘فائرنگ اور شیلنگ سے 43 نمازی زخمی ہو گئے‘قابض فوجیوں کا مسجد میں مسلمانوں پر تشدد ‘آنے والوں نمازیوںکو کو باہر نکال دیا‘ عرب لیگ نے اسرائیل سے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی عبادت روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صیہونی فورسز فلسطین میں ظلم کی انتہا کردی ، مسلسل دوسرے جمعے کو بھی صیہونی فورسز مسجد اقصی پر دھاوا بول دیا۔فلسطینیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا اور ا±ن پر تشدد کیا ، ساتھ ہی نمازیوں پر دستی بم پھینکتے ہوئے ربر کی گولیاں برسائیں۔فلسطینیوں نے اسرائیلی فورسز کی جارحیت کا دفاع پتھروں سے کیا، صیہونی فورسز کی فلسطینیوں پر مسجد اقصی کے اطراف چھت سے فائرنگ ا ور شیلنگ کے نتیجے میں 43فلسطینی زخمی ہو گئے۔صیہونی فورسز نے فلسطینیوں کی آنکھوں اور سر کو نشانہ بنایا۔ عرب لیگ نے اسرائیل سے مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی عبادت روکنے کا مطالبہ کر دیا۔ عرب لیگ کا کہنا ہے مسجد میں یہودیوں کی عبادت مسلمانوں کے جذبات کی کھلم کھلا تضحیک ہے۔ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت پر پابندی لگا رکھی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہودیوں کو پولیس حفاظت میں مقدس مقام میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ عرب لیگ نے یہودیوں کے اقدام پر وسیع تر تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔خیال رہے ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی فورسز کا مسجد اقصی پر یہ پانچواں حملہ ہے۔ دوسری جانب اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے جمعہ کو کہا کہ بیت المقدس میں جاری کشیدگی کم کرنے اور عرب ممالک کی طرف سے القدس میں امن کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔یہ عمان میں حسینیا محل میں عرب لیگ کی وزارتی کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس شہر میں غیر قانونی اسرائیلی پالیسیوں اور طریقہ کار کو بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اردن کی حکومت بیت المقدس میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں موجود تمام اسلامی اور مسیحی مقدسات کا دفاع اردن کی ذمہ داری ہے۔شاہ عبداللہ دوم نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی حیثیت کا احترام کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو مذہبی عقائد کا احترام کرنا چاہیے۔جبکہ ادھر فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں خاص طور پر مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مداخلت کریں۔ انہوں نے یہ اپیل گزشتہ روز مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں امریکی قائم مقام نائب وزیرخارجہ برائے مشرقی امور یائیل لیمبرٹ اور نائب وزیر خارجہ برائے اسرائیل اور فلسطینی امورہیڈے امر کے ساتھ ملاقات کے دوران کی۔فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی صدر نے امریکی سفارت کاروں کو بتایا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف اپنے حملے فوری طور پر بند کرنے چاہئیں اورمشرقی بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کی قانونی اور تاریخی حیثیت کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔انہوں نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں خاص طور پر مشرقی بیت المقدس اور مسجد الاقصی میں بدتر ہوتی صورتحال کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا۔اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کو روکنے اور دستخط شدہ معاہدوں کی پاسداری سے انکار کے درمیان کوئی سیاسی راہ نہ ہونے کی وجہ سے فلسطینی قیادت مستقبل قریب میں پی ایل او کی مرکزی کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کی حقدار ہو گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی شہروں، دیہاتوں اور کیمپوں میں اسرائیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی جارحیت اور کشیدگی ، فلسطینیوں کا قتل اور مغربی کنارے میں حملوں کے ناقابل برداشت سنگین نتائج مرتب ہوں گے لہذا ایک ایسا سیاسی دائرہ کار بناناضروری ہے جس سے مشرقی بیت المقدس سمیت فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم ہو۔ انہوں نے مشرقی بیت المقدس میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔


