پنجاب کے حالات

پنجاب ملک کا بلحاظ آبادی سب سے بڑا صوبہ ہے۔چند ہفتے پہلے تک چھوٹے صوبوں کی رائے تھی کہ پاکستان کا اصل حکمران صوبہ پنجاب ہے۔لیکن اب دیکھا جا رہا ہے کہ پنجاب کے منتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز حلف برداری کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں مگر ان سے حلف لینے کے لئے مجاز افسر دستیاب نہیں۔صدر پاکستان اور گورنرپنجاب علیل ہیں اور آئینی جواز بھی پیش کررہے ہیں کہ وہ حلف نہیں لے سکتے۔ مدعی حمزہ شہباز توہین عدالت کا مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ صوبائی اسمبلی سے اکثریتی ووٹ لے کر بھی حلف بردار سے محروم ہیں اور عدالت سے داد رسی کی استدعا کرتے دکھائی دیتے ہیں تو جمہوریت کس مقام پر سمجھی جائے گی؟نیز چھوٹے صوبوں کو کیا پیغام پہنچے گا؟یہ معمولی واقعہ نہیں، آئینی بحران ہے۔دوسرا کوئی نام دینا درست نہیں ہوگا۔اس کے معنے یہی ہوں گے کہ کہیں نہ کہیں کوئی بہت بڑی غلطی موجود ہے جسے درست کئے بغیر یہ بحران ختم نہیں ہوگا۔صدر پاکستان، گورنر پنجاب کے علاوہ چیئرمین سینیٹ بھی یہ فرض ادا کرنے سے گریزاں ہوتو عام آدمی سوائے حیرانگی ظاہر کرنے کے اور کیاکرسکتا ہے؟آئین میں اتنا بڑا سقم ہے یا پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخابی عمل میں قانون کی کوئی بڑی خلاف ورزی موجود ہے؟ جسے چھپانے یا نظر اندازکرکے آگے بڑھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس لئے کہ وزارت ِ اعلیٰ کے دوسرے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی اسمبلی کے فلور پر زخمی ہوئے، ایک خاتون رکن پنجاب اسمبلی انتخابی عمل سے پہلے ہونے والی ہنگامہ آرائی اور مارپیٹ کے نتیجے میں زخمی ہو کر کوما میں چلی گئیں اور تا حال ہوش میں نہیں آسکیں۔ڈپٹی اسپیکر کے بال کھینچے گئے،انہیں مبینہ طور پر تھپڑ مارے گئے، گھسیٹا گیا۔ عدالت فیصلہ سنانے سے پہلے تمام پہلو سامنے رکھے گی، دیکھا جائے گا کہ اتنی مارپیٹ کے بعد کیا آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری ہو سکتی تھی؟فریقین کے وکلاء قانونی نکات اٹھائیں گے، ایوان میں پولیس کس کے کہنے پر پہنچی؟کیا پولیس ایوان میں داخل ہونے کی مجاز ہے؟یا ایوان میں امن امان کی صورت حال پرقابو پانے کا کوئی اور بھی طریقہئ کار موجود ہے جسے مجاز اتھارٹی کی جانب سے متحرک ہونے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی؟بہرحال یہ آئینی اور قانونی حوالوں سے الجھا ہوا اور پیچیدہ مقدمہ ہے، عدالت ہی مناسب نتیجے پر پہنچ سکتی ہے۔یہ محلے کی گلی میں روایتی گالم گلوچ اور مار پیٹ کا سادہ سا مقدمہ نہیں،قانون ساز ادارے کے مقدس فلور پر رونما ہونے والا ایسا واقعہ ہے پاکستان کی تاریخ میں جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔نیزاس مقدمے کے فیصلے کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔یہ کہنے کی چنداں کوئی ضرورت نہیں کہ عدلیہ کو بھی اس مقدمے کی نزاکت، حساسیت اور اثر پذیری کے بارے میں مکمل ادراک ہوگا۔ویسے بھی پاکستان کو داخلی اور خارجہ محاذ پر ایک سے زائد چیلنجز کا سامنا ہے۔ کورونا کی پیدا کردہ مالی مشکلات سے ابھی نجات نہیں ملی تھی کہ روس، یوکرین جنگ نے عالمی سطح پر نئے سیاسی اور معاشی مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔واشنگٹن سے مارچ کے پہلے ہفتے میں ارسال کردہ سفارتی مراسلے نے جوگرد و غبار فضاء میں اچھالا تھا ا بھی وہ تہہ نشین نہیں ہواکہ پنجاب اسمبلی میں حد درجہ ناخوشگوار واقعات پیش آگئے۔ پنجاب میں حکومت سازی رکی ہوئی ہے، وفاق اتحادی جماعتوں کی مرضی معلوم کرنے میں مصروف ہے۔ایوان سے پی ٹی آئی کے ارکان مستعفی ہو نے کے بعد ابھی یہ طے کیا جانا ہے کہ استعفے قبول کئے جانے کی سابقہ کارروائی درست تھی یا اس میں کوئی قانونی خامی رہ گئی تھی؟جب قانون ساز اداروں میں ایسے واقعات دیکھنے کو ملیں تو دیگر اداروں کی کارکردگی کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے ہزار بار سوچنا ہوگا۔ملک میں قانون ساز اور ذیلی ادارے باہم متصادم ہیں، اپنی بے خبری اور بے عملی کا علاج تلاش کرنے عدلیہ میں پہنچ چکے ہیں۔بلکہ اب خارجہ امور کے بعض پیچیدہ معاملات حل کرانے کی درخواست بھی عدلیہ سے کی جا رہی ہے۔یوں محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان کے کرتا دھرتاؤں نے گزشتہ75سال میں بہت کچھ گنواکر بھی کچھ نہیں سیکھا۔تکلیف دہ سچائی یہ ہے کہ اس دوران عام آدمی کو ٹیکس دینے کی مشین سمجھا گیا ہے۔قدرتی وسائل خاموشی سے غیر ملکی مالیاتی قرضوں کی نذر ہو گئے۔75سال بعد عام آدمی کو نوید سنائی جارہی ہے کہ اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر تمہاری ہڈیوں کا گودا نچوڑا جائے گا۔دیوالیہ ہونے کا خطرہ نہ ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ باقی قرضہ دوست ممالک کو ادا کرنا ہے۔یہ مفروضہ بھی گزشتہ دنوں غلط ثابت ہوچکا ہے جب یہ اطلاع میڈیا کے ذریعے پاکستان کے مہنگائی زدہ عوام کو ملی تھی کہ سعودی عرب کی جانب سے دیئے گئے قرض کے معاہدے میں یہ شرط بھی درج ہے کہ”دیوالیہ ہونے کی صورت میں پاکستان 72گھنٹوں میں قرض ادا کرنے کا پابند ہوگا“۔اگر دیگر”دوست“ ممالک سے کئے گئے معاہدوں میں یہ شرط موجود ہوئی تو وزارت خزانہ بتائے ملک کہاں کھڑا ہوگا؟سیانے کہہ گئے ہیں: خود کردہ را علاجے نیست!
یعنی جو غلطیاں دیدہ و دانستہ کی جاتی ہیں ان کا علاج ممکن نہیں۔اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے کہ اپنی کنپٹی پر پستول رکھ کر اپنے ہاتھ سے فائر کرنے کا نتیجہ صرف موت ہوتا ہے۔پڑوسی فائر کی آواز سن کر جتنی دیر میں مضروب کی مدد کو پہنچتاہے، مضروب عالم فانی سے جا چکا ہوتا ہے۔کچھ اسی قسم کا منظر دیوالیہ قرار دیئے جا نے والے ملک کا ہوتا ہے۔ پاکستان ابھی دیوالیہ ہونے کے خطرے سے باہر نہیں نکلا، اس لئے کہ سعودی عرب سے کئے گئے معاہدے سے مذکورہ شرط حذف کرنے کی کوئی اطلاع کسی معتبر ادارے نے ابھی تک نہیں دی۔ پاکستان ابھی معاشی خرابیوں کی دلدل سے باہر نہیں نکلا۔ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حالت وہی ہے جہاں آج سے پانچ چھ سال پہلے سری لنکا کھڑا تھا۔وزیر مملکت برائے خزانہ اور ان کے ساتھ جانے والی ٹیم اسلام آباد پہنچ کر آئی ایم ایف کی تسلیم کردہ شرائط کی تفصیل میڈیا کے روبرو بیان کرے گی تب حقائق کا انکشاف ہوگا۔لیکن ڈیزل کی عدم دستیابی پہلا اشارہ ہے، پمپ مالکان کو قیمتوں میں اضافے کی خبر مل چکی ہے۔ موجودہ حکومت معاشی بدحالی سے واقف تھی،اسے معلوم ہونا چاہیئے تھا بہترمعاشی پالیسی کے بغیر آئی ایم ایف سے مذاکرات میں اپنی بات منوانا آسان نہیں، مالیاتی ادارے کی شرائط ماننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، خدا کرے عوام پر مہنگائی کے بوجھ میں کمی آئے۔عام آدمی کے بچے بھوکے پیٹ نہ سوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں