بدین میں تنخواہوں سے محروم اساتذہ کا ٹریژری آفس کے سامنے احتجاج

بدین (انتخاب نیوز) این سی ایچ ڈی کے فیڈرل ٹیچرز کا 10 ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ٹریژری آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ، اسٹنٹ کمشنر ماجد الطاف کے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔ ضلع بدین سمیت اندرون سندھ میں سرکاری پرائمری اسکول میں تدریسی سرگرمیاں سرانجام دینے والے اساتذہ نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ٹریژری آفس کے سامنے جمع ہوگئے اور احتجاجی مظاہرہ کیا، ضلعی صدر اشفاق احمد، نورحسن سولنگی، غلام مصطفٰی، یعقوب ہالیپوٹہ، راجہ مشتاق ودیگر نے میڈیا کو بتایا کہ ضلع بدین میں اساتذہ گزشتہ 10ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث عید کیلیے خریداری سے محروم ہیں، اساتذہ رہنماو¿ں نے ٹریژری افسران کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ این سی ایچ ڈی اور بیسک کے ہزاروں اساتذہ کو 10 ماہ سے پریشان کیا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے این سی ایچ ڈی اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ 25 ہزار کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ وزیر تعلیم سید سردار شاہ اور اے جی سندھ کی جانب سے اساتذہ کی 6 ماہ کی تنخواہ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن محکمہ خزانہ کی غفلت کے باعث سندھ سمیت ضلع بدین میں این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کی تنخواہیں جاری نہیں کی جارہی ہیں، تنخواہوں سے محروم اساتذہ کی رقوم دو ماہ قبل سندھ گورنمنٹ اکاو¿نٹس آفس کو بھجوائی جاچکی ہیں لیکن بدین میں ڈسٹرکٹ اکاو¿نٹس آفیسر دینے کو تیار نہیں۔ دریں اثناءڈسٹرکٹ اکاو¿نٹس آفیسر کا کہنا ہے کہ ہم عید کی تنخواہ اور پنشن کی رقم بھیجیںگے، احتجاج کے دوران ڈپٹی کمشنر آغا شاہنواز خان کے حکم پر اسسٹنٹ کمشنر محمد ماجد الطاف نے پہنچ کر اساتذہ سے مذاکرات کیے اور تنخواہوں کی فوری ادائیگی کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد اساتذہ نے احتجاج ختم کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں