اساتذہ اور مہمانوں کا قتل بلوچ روایات نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کراچی یونیورسٹی کے باہر چینی اساتذہ پر ہونے والے خود کش دھماکے کی صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام کی جانب سے بھرپور مذمت کی ہے۔اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بلوچ قوم کی روایت نہیں کہ وہ اساتذہ، مہمانوں اور کمزور لوگوں کو اپنا ہدف بنائے اور یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مشتبہ افراد نے درس و تدریس سے وابستہ افراد کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں اس کے لیے چین تک جانا پڑے اس سے ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم کی اہمیت اور قدر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی یہاں پر مقامی اساتذہ اور انجینئرز کو مارا گیا ہے وزیراعلی نے کہا کہ ایسے واقعات بلوچ دوستی نہیں بلکہ بلوچ دشمنی کی علامت ہے کہ اساتذہ، پروفیسروں، ڈاکٹروں اور انجینئرز کو مارا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کچھ عرصے سے تھم گئے تھے لیکن آپ پھر سے ایسے واقعات کا شروع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے تاکہ وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور ان کو اقتصادی طور پر بھی پیچھے رکھا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایسے واقعات سے نقصان بلوچ قوم، ترقیاتی سکیموں اور بلوچستان کو ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام جانتے ہیں ان سب واقعات کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اس سے پہلے بھی گوادر میں چینی انجینئرز پر حملے ہوئے لیکن ہمارے چینی بھائی اس قسم کے حملوں سے خائف نہیں ہیں اور وہ بلوچستان،گوادر اور سی پیک کی ترقی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ محض خام خیالی ہے کہ ایسے واقعات سے وہ چین اور پاکستان پر دبا¶ ڈال سکیں گے چین اور پاکستان اب ایسے کسی دبا¶ میں نہیں آئینگے اور ہم شدت پسندی سے نمٹنے اور بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک ساتھ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں