بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب ،کیپٹن رحمان کیخلاف مقدمہ درج

کراچی کراچی یونیورسٹی خودکش حملہ کیس میں پیش رفت، تحقیقاتی ذرائع کے مطابق دھماکے میں سہولت کاری کے الزام میں مشتبہ شخص بیبگار امداد کو گرفتار کرلیا گیا۔ قبل ازیں جامعہ کراچی میں گذشتہ روز چینی اساتذہ کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ 23/2022 سی ٹی ڈی ایسٹ میں سرکار ذریعہ ایس ایچ او مبینہ ٹاو¿ن سب انسپکٹر بشارت حسین کی مدعیت میں زیر دفعات 302/324.427.109.34ت پ، r/w، 3/4ایکسپلوزیو سبسٹانس ایکٹ مجریہ 1908 اور r/w، ATA – 7 مجریہ 1997 کے تحت درج کرلیا گیا، مقدمے کی تفتیش انسپکٹر ثناءاللہ متعینہ سی ٹی ڈی القاعدہ داعش کراچی کریں گے، مقدمہ کے متن کے مطابق مسماة شاری حیات بلوچ عرف برمش نے علیحدگی پسند کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) مجید برگیڈ کے کمانڈر بشیر زیب، کمانڈر کیپٹن رحمان اور مجید برگیڈ کے ترجمان جیئند بلوچ ودیگر سہولت کاروں کی ایماءپر مملکت پاکستان اور دوست ملک چائنہ کے تعلقات غیر مستحکم کرکے ملک میں دہشت کو فروغ دے کر اپنی کالعدم تنظیم کے گو ناگوں مقاصد کے حصول اور پنی تنظیم کی تشہیر کے لئے خودکش حملہ کیا، مقدمے کے متن کے مطابق خودکش حملہ میں پاکستان کے خلاف سرگرم غیر ملکی ایجنسی کے ملوث ہونے کا احتمال بھی ظاہر کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں