شاری بلوچ کے شوہر کے مطابق وہ ذہنی مریضہ تھی، بشریٰ رند کی پریس کانفرنس

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی وزیر بشریٰ رند نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جامعہ کراچی بم دھماکے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی میں ہمارے چینی مہمان ہمارے قابل احترام اساتذہ اس حادثے کا شکار ہوئے، لوگوں کے ذہنوں میں ایسی چیزیں چل رہی ہیں جن کا تدارک بہت ضروری ہے،سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور بعد میں کچھ اور ہیں،اللہ تعالیٰ نے ہمارے کچھ محدودات بنائے ہیں جن کو ہم پار نہیں کرسکتے، جس میں ایک یہ ہے کہ کسی بھی صورت کسی بھی حالات میں خودکشی حرام ہے، ہم اس اقدام تک نہیں آ سکتے نہ آنا چاہئے،کراچی خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہوں،یہ ہمیشہ کی طرح بلوچستان کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں خاص طور سے بلوچ خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیرونی طاقتوں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ بلوچستان میں آئین و قانون کی صوتحال خراب کی جائے، پہلے ہی بلوچ عوام کافی پسماندہ رہے ہیں،اب جو کچھ گھروں سے نکل رہے ہیں، تعلیم حاصل کرنے کیلئے ان کا راستہ اس طرح سے روکا جا رہا ہے، گزشتہ رات شاری بلوچ کے شوہر کو گرفتار کیا گیا ہے، جس نے کہا کہ شاری بلوچ ذہنی مریضہ تھی اور وہ اس بیماری سے ابھرنے کیلئے گولیاں کھایا کرتی تھی، وہ اپنے ذہنی حواس میں نہیں تھی اور اس نے یہ قدم اٹھایا،میرا خیال ہے کہ اس طرح کی حرکت کوئی بلوچ نہیں کر سکتا، نہ کوئی مرد نہ کوئی عورت جس کی وجہ ہے کہ بلوچ ایک جرات مند اور وفادار قوم ہے،جس کی ایک تاریخ ہے، اگر ہم چاکر اعظم رند سے تاریخ اٹھائیں تو چاکر اعظم رند کی بہن پانی پت کی جنگ میں شریک تھی، اتنی بڑی بڑی جنگوں میں انہوں نے حصہ لیا، نام کمایا اور آج بھی آپ کو ان کا نام تاریخ میں ملے گا، چاگئی بی بی تھیں جنہوں نے لسبیلہ پر حکومت کی اور ایک نام چھوڑ کر گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں