سینیٹ داخلہ کمیٹی کی جامعہ کراچی میں بم دھماکے کیخلاف مذمتی قرار داد منظور
اسلام آباد (انتخاب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے کے خلاف مذمتی قراردادمتفقہ طور پر منظور کرلی جبکہ کمیٹی نے ایک ”ان کیمرااجلاس“ بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں نیکٹا سے ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات سے متعلق بریفنگ لی جائیگی۔کمیٹی نے”پیمنٹ آف ویجز (ترمیمی)بل اور ”پریوینشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن آف ویگرینٹس بل“ منظور کر لئے جبکہ جنوبی وزیرستان میں لینڈ مائنز کے حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء اور زخمی ہونے والوں کے لئے معاوضے میں اضافہ کرنے کی سفارش کردی، کمیٹی نے اپر دیر میں نادرا کے دفاتر میں خواتین عملہ تعینات کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ نادراکی ایک موبائل وین بھی بڑھانے کی ہدایت کر دی۔ جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے آغاز پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے واقعہ کی ہم مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک ان کیمرا میٹنگ کریں گے جس میں نیکٹا کو بلائیں گے، یہ ایک لہر شروع گئی ہے اور اس لہرکو ہم نے جلد از جلدکنٹرول کرنا ہے۔ اجلاس میں جنوبی وزیرستان میں لینڈمائنز کی وجہ ہونے والی اموات کا معاملہ بھی زیر غور آیا، سینیٹر دوست محمد خان نے کہا کہ ہر ہفتے لینڈ مائنز کے حادثے ہوتے ہیں، ہوم سیکرٹری خیبر پختونخوا نے کمیٹی کو بتایا کہ پانچ سال میں 25 اموات ہوئی ہیں، شہید ہونے والوں کے ورثاء کو تین تین لاکھ اور زخمیوں کو ایک لاکھ روپیہ دیا جاتا ہے، سینیٹر دوست محمد خان نے کہا کہ ہر ہفتے یہ حادثات ہو رہے ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاوضہ کس کو مل رہا ہے، ان حادثات کو کنٹرول کرنے کے لئے کیا کیا جا رہا ہے؟ سینیٹر دوست محمد خان نے کہا کہ معاوضہ بہت کم ہے، چیئرمین کمیٹی نے سینیٹر دوست محمد خان سے کہا کہ آپ کے پاس جو نام ہیں وہ ہم ہوم سیکرٹری خیبر پختونخوا کو بھجوا دیتے ہیں یہ ہمیں اس پر جواب دے دیں،معاوضے کو کم از کم ڈبل کیا جائے، شہداء کے ورثاء کو کہیں سرکاری نوکری دی جائے،کمیٹی نے معاوضے کو دوسرے صوبوں کے برابر کرنے کی ہدایت کردی، اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کئے گئے بل ”پیمنٹ آف ویجز (ترمیمی)بل2022“ کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے جائزہ لینے کے بعد بل کی منظوری دے دی۔ رکن کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ناظم جوکھیو قتل کیس کا معاملہ اجلاس میں اٹھایا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم اس کی رپورٹ منگواتے ہیں، رپورٹ تسلی بخش نہیں ہوئی تو اس معاملے پر دوبارہ بحث کریں گے۔ اجلاس میں پروونشل موٹروہیکلز (ترمیمی) بل2022کا بھی جائزہ لیا گیا، تاہم کمیٹی نے بل مزید جائزے کے لیئے آئندہ اجلاس تک موخر کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا۔ اجلاس میں ”پریوینشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن آف ویگرینٹس بل 2022“کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے جائزہ لینے کے بعد بل کی منظوری دے دی۔ سینیٹر مشتاق احمد نے اپر دیر اور لوئر دیر کے نادرا دفاتر میں خواتین عملہ کی کمی اور نادرا کی موبائل وین کی کمی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ نادرا دفاتر میں خواتین عملہ نہ ہونے سے خواتین کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے میں بڑی مشکل ہوتی ہے، خواتین عملہ تعینات کیا جائے، موبائل وین بھی ہونی چاہئے۔نادرا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نوے فیصد سینٹرز ایسے ہیں جن میں خواتین اسٹاف لازمی ہے، اس وقت اپر دیر میں ایک موبائل گاڑی اور چھ سینٹر موجود ہیں، تین سینٹر میں خواتین اسٹاف نہیں ہے، لوئر دیر میں دو موبائل گاڑیاں ہیں، کمیٹی نے نادرا کو ہدایت کی کہ سارے سینٹرز میں خواتین عملہ تعینات کیا جائے اور اپر دیر میں ایک موبائل وین کا اضافہ کیا جائے۔


