پنجاب پولیس کے اہلکار کا افغانستان میں پناہ کامطالبہ

پشاور:پنجاب ضلع جہلم پولیس کے سب انسپکٹر مظہر اقبال ولد برکت علی نے افغانستان کی طالبان حکومت سے پناہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2007 میں ان کے17 سالہ بھتیجے شاہ زیب کے اغوا ہونے سے ابتک تین قاتلانہ حملے کیے گئے ہیں جبکہ خاندان کی زندگی بھی شدید خطرات سے دوچار ہے انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچے کی بازیابی میں مدد کریں چند پولیس افسران اہلکاروں اور کلیریکل سٹاف کا گروپ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے اور بچے کی برآمدگی اور بازی کے امن میں رکاوٹ پیدا کر رہیں ہیں میں نے کہا کہ سارے پنجاب کے بڑے جرائم پیشہ افراد درہ آدم خیل میں سے کر پنجاب کے مختلف سیاسی لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھتیجے شازب ظفر ولد ظفر اقبال کے ساتھ ممبر دو ہزار سات کو اغواء ہونے سے اب تک بارہ سال سے عدالتوں ہائیکورٹ سپریم کورٹ صوبائی اور وفاقی محتسب وزیراعلی سے وزیراعظم مقتدر اداروں تک ہر کسی کو اپنی درخواست دی تھی تاہم کسی نے مدد نہیں کی انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 22 مرتبہ میرا تبادلہ کیا گیا ڈی پی او گجرات عمر فاروق سلامت مسلسل میری زندگی کے درپے ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں