ڈیرہ بگٹی آلودہ پانی استعمال کرنے سے 15سو افراد متاثر

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں پانی کی عدم دستیابی کا کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ پی ایچ ای اور کمشنر سبی ڈویژن کو ہنگامی بنیادوں پر پانی کے بحران سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محکمہ پی ایچ ای کو پانی کی فراہمی کے لیے 10 ملین روپے کے خصوصی فنڈز کا اجراءکر دیا گیا ہے جبکہ محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے ٹینکروں کے زریعہ علاقوں مکینوں کو پانی کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ مون سون کی بارشوں کے آغاز اور پانی کے ذخائر میں اضافے تک ٹینکروں کے زریعہ پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے اور کمشنر سبی ڈویژن پانی کے بحران کے حل کے لیے جاری اقدامات کی نگرانی کریں وزیراعلیٰ نے سیکریٹری صحت کو میڈیکل ٹیمیں پیر کوہ بھجوا نے کی ہدایت بھی کی تاکہ علاقے میں وبائی امراض کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیئے جا سکیں۔کوئٹہ ہمارے علاقے کی گیس پورے ملک کو جاتی ہے مگر ہم پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ جانور پیاس سے مر رہے ہیں، ہمارے بچے ایسا گندا اور بدبودار پانی پینے پر مجبور ہیں جس کے جوہڑ کے قریب کسی دوسرے علاقے کا شخص شاید چند سیکنڈ کے لیے بھی کھڑا نہ ہو پائے۔یہ الفاظ گیس سے مالا مال بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی سب تحصیل پیرکوہ کے رہائشی محمد بخش بگٹی کے ہیں، جن کے چار بچوں سمیت گھر کے بیشتر افراد گندا پانی پینے کی وجہ سے ہیضہ کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان کا ایک بچہ اب بھی پیرکوہ کے سرکاری ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔انہوں نے عرب ویب سائٹ سے با ت چیت کر تے ہو ئے بتایا کہ شدید قے اور مسلسل دست کی وجہ سے ان کا بیٹا بہت کمزور ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں تک دھنس گئی ہیں۔ڈیرہ بگٹی کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر محمد اعظم بگٹی کے مطابق پیرکوہ میں پینے کے صاف پانی کی قلت کی وجہ سے ہیضہ وبائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس سے اب تک دو افراد کی موت ہوچکی ہے جبکہ 15سو سے زائد افراد شدید بیمار ہو کر ہسپتال پہنچے ہیں۔ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر سرفراز احمد بگٹی کا دعویٰ ہے کہ 40ہزار آبادی والے اس علاقے میں ہیضہ سے متاثر ہونے والوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔پیرکوہ کے ایک اور قبائلی رہنما قادر بگٹی نے دعوی کیا ہے کہ ہیضے کی وبا سے اب تک 12افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔انہوں نے مرنے والوں کے مکمل کوائف شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل ہیں۔قادر بگٹی کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد بھی دو ہزار سے زائد ہے اور روزانہ تین سو سے زائد افراد مختلف سرکاری و نجی ہسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے فوری طور پر امدادی ٹیمیں علاقے میں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں