ملک بھر سے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے6 عہدیداران لاپتہ

لاہور (انتخاب نیوز) ریاستی اداروں کا متعصبانہ رویہ جاری ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے تعلق رکھنے والے محب وطن سینئر رہنماﺅں کیخلاف ظالمانہ کریک ڈاﺅن کا تیزی سے آغا زکردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور، آزاد کشمیر ، ڈیرہ غازی خان و دیگر علاقوں سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 6 نوجوانوں کو چادر اور چار دیواری کی پاپالی کرتے ہوئے جبری طورپر لاپتہ کردیا ہے۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ 4 روز قبل لاہور کے علاقے مرید کے میں سادہ لباس اہلکاروں نے وجاہت علی کو آدھی رات کو ان کے گھر سے اٹھا کر لاپتہ کردیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک آئی ایس او کے مزید 6 سینئر عہدیداران کو بھی جبری طور پر گمشدہ کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہناہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سابق مرکزی رہنما آئی ایس او توقیر مہدی کو لاہور میں ان کے گھر سے، حوزہ علمیہ قم کے طالب علم مولانا سید تقی شیرازی کو سرگودھا سے،سابق مرکزی رہنما آ ئی ایس او زاہد عباس مرتضی کو لاہور میں ان کے گھر سے،سابق سابق رکن آئی ایس او و فعال شیعہ جوان فرحان مہدی کو آزاد کشمیر مظفر آباد میں ان کے گھر سے،سابق رکن آئی ایس او و فعال شیعہ جوان طیب حسین کو آزاد کشمیر مظفر آباد میں ان کے گھر سے اغواءکرکے لاپتہ کردیا گیا۔ مزید براں سابق رکن آئی ایس او و فعال شیعہ جوان ریاض صفوی کو سیال موڑ نزد سرگودھا میں ان کے گھر سے جبکہ ملتان سے حسن کشمیری کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کی نئی حکومت کے قیام کے بعد سے کافی عرصہ سے تھمی ہوئی شیعہ جبری گمشدگیوں میں دوبارہ تیزی کا آنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شیعیان حیدرکرار کے صبر وضبط کا مزید امتحان نہ لیں۔ مزید برآں سابق رکن آئی ایس او و فعال شیعہ جوان ریاض صفوی کو سیال موڑ نزد سرگودھا میں ان کے گھر سے جبکہ ملتان سے حسن کشمیری کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں