بلوچ مرد، خواتین اور بچوں کو لاپتہ کرنے کیخلاف احتجاج بھی نہیں کرنے دیا جاتا، زینب مزاری

اسلام آباد (انتخاب نیوز) انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایمان زینب مزاری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں ٹوئٹ کرتے لکھا ہے کہ ریاست بلوچ مردوں، عورتوں اور بچوں کو غائب کرتی ہے۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ہوتی ہے اور اگر مقدمہ درج کر بھی لیں تو وہ تحقیقات کرنے سے انکار کرتے ہیں۔حکومت میں کوئی بھی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ آج بلوچ مظاہرین اور ندا کرمانی کے ساتھ سندھ حکومت کا رویہ قابل مذمت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں