عمران خان نے یہودی پالیسی کے مطابق ملک کا ہر شعبہ تباہ کردیا،مولا نا فضل الرحمن

جدہ: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولا نا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ملک کی معیشت خراب ہے مسئلہ یہ ہے کہ عمران نے جو اس ملک کے ہر شعبے کے ساتھ ظلم کیا ہے وہ سدھارہا کیسے جائے اس مسئلے پر اتحادی حکومت پوری محنت سے سوچ بچار کررہی ہے، یہ بات مولا نا فضل الرحمن نے جدہ میں کشمیر کمیونٹی سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اپنے اعزاز میں دئے گئے سابق صدارتی مشیر سردار عنایت اللہ عارف کے عشائیہ میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گزشتہ چار سال سے کم عرصے میں عمران نے یہودی پالیسی کے مطابق پاکستان کا ہر شعبہ تباہ کیا، دوست ممالک سے تعلقات خراب کئے، مودی دوستی میں کشمیر کے مسئلے کو سخت نقصان پہنچایا، ملک کو مقروض کیا، خود ہوشرباء کرپشن کی اور سابقہ حکومتوں پر الزام لگاتا رہا۔ عدالتوں، اور اداروں کو دھمکیاں دینے کی ریت ڈالی، نوجوانوں کو جلسوں کے نام پر سڑکوں پر رقص کرایا، بدزبانی، او ر عوام کو تقسیم کرنے کا ہر طریقہ استعمال کیا، اس صورتحال میں موجودہ حکومت کے سامنے بہت سے چیلنجز ہیں،فضل الرحمان نے کہا کہ ان خرابیوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ اتحادی حکومت کی پہلی ترجیح مہنگائی و بے روزگار ی کی دلدل میں پھنسی عوام کو ریلیف دینا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر بھی عمران حکومت نے مجرمانہ پالیسی اپنائی اور مودی سے توقعات وابستہ کرکے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں اسے چار سال پہلے کی پوزیشن پر لے آیا، مولانا فضل الرحمان نے یسین ملک کو عمر قید سزا پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 25مئی کو عمران کا لانگ مارچ حکومت کے خلاف نہیں صرف بھارتی ظلم اور یسین ملک کی سزا سے پاکستان اور کشمیریوں سے توجہ ہٹانے کیلئے تھا جسے اس نے ہنگامہ، جلاؤ گھیراؤ کرکے بھارتی ایجنڈے کو مکمل کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں