وفاقی وزیر شیری رحمان کا کم عمری کی شادیوں پر پابندی کا مطالبہ

اسلام آباد :وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمٰن نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی سطح پر کم عمری کی شادیوں پر پابندی کا فیصلہ کر لینا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر کی جانب سے عالمی وبا کرونا میں خواتین کو درپیش مظالم پر روشنی ڈالتے ہوئے کیاگیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر پاتھ فاؤنڈر گروپ آف کمپنیز اور مارٹن ڈاؤگروپ کی جانب سے پاکستان پویلین میں منعقد کیے گئے خصوصی سیشن میں اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر معروف ماہر تعلیم اور سینئر وائس چیئرمین کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز (KCFR) ڈاکٹر ہما بقائی نے ٹاک سیشن کی نظامت کے فرائض سر انجام دیئے جبکہ حاضرین میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی پروفیسر ڈاکٹر لنڈا زنگ ول، سیگل ایسوسی ایٹس کے مارک سیگل سمیت متعدد نامور شخصیات موجود تھیں۔وفاقی وزیر نے خصوصی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبائی امراض سب کیلئے ایک بحران ہوتے ہیں تاہم اس طرح کے حالات میں خواتین ہمیشہ دوسروں کی نسبت زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور کرونا کے دنوں میں بھی یہی کچھ ہوا۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ وبائی امراض کے دوران خواتین کو ان کے اپنے مخفوظ سمجھے جانیوالے گھروں میں تشدد اور خوف کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اسکولوں میں عوامی پالیسی اور لبرل جمہوریت کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے تاہم زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے اور انصاف کامطالبہ کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ شری رحمان نے کہا کہ خواتین کے بارے میں ہماری لاپرواہی کے باعث ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کو مسلسل تناؤ کا شکار بنا رہے ہیں کیونکہ ہمارا مردانہ تسلط پہ مشتمل معاشرہ خواتین سے انکی پہچان، جسم، مستقبل، تعلیم اور ترقی کے مواقع کے بارے میں فیصلوں میں انکی خود مختاری چھین لیتا ہے۔ خواتین کے حقوق اور معاشرے کی جانب سے انکے استحصال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ لڑکیوں کیلے تعلیم کا حق استحقاق جبکہ لڑکوں کیلئے اسے ایک ضرورت اور حق سمجھا جاتا ہے اور خواتین کو اس بیانیے میں تبدیلی لانے کے لیے خود باہر نکلنا پڑے گا۔ معیشت میں خواتین کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ کام کی جگہوں پر خواتین اور مردوں کے درمیان آمدنی کا فرق اب بھی بہت زیادہ ہے۔ اس ضمن میں اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ کام کرنے کی جگہ پر خواتین کا تناسب کل آبادی کاصرف 20 فیصد بتایا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کھیتوں، ماہی گیری، کارخانوں، گارمنٹس فیکٹریز اور دیگر ایسی جگہوں پر کام کرنے والی خواتین سے صرف نظر برتا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں خواتین یہاں تک کہ دور دراز دیہی علاقوں میں بھی معاشی طور پر اپنا بھرپور کردار کرتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں وہ خود مختاری اور شناخت فراہم نہیں کی جاتی جس کی وہ حقدار ہیں، اس موقع پر معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کے رجحان سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیری رحمن کا کہنا تھا کہ وہ ایک بل پارلیمنٹ سے منظور کروانے کی کوشش کر رہی ہیں جس کے تحت خواتین کو اپنی شادی کے لیے انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے یا کم از کم کم عمر بچوں کی شادیوں پر پابندی لگا دی جائے۔ ان کاکہنا تھا کہ مذکورہ بل کو اب تک صرف صبہ سندھ میں منظور کیا گیا ہے۔ خواتین کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ زبردستی شادی پر مجبور کی جانیوالی نوجوان خواتین کو صحت سے متعلق مناسب آگاہی اور اختیار نہیں دیا جاتا، اگر آپ کے پاس زچگی جیسے معاملات کی بنیادی معلومات نہیں ہیں تو آپ کی شرح اموات بہت زیادہ ہو سکتی ہیں، جو پاکستان میں پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہاکہ ہمارا پورا کلچر خواتین کو زچگی کے عمل میں مصروف رکھنے کے ارد گرد قائم ہے چاہے وہ اس ضمن میں رضامند ہوں یا نہیں۔ شیری رحمان کاکہناتھاکہ یہ فیصلے خواتین کا بنیادی حق ہیں جو ہماری خواتین کو فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں