خضدار، باغبانہ میں توسیع زراعت کا مرکز ویران، قیمتی اور نایاب درخت خشک ہوگئے

خضدار (نامہ نگار) باغبانہ میں قائم توسیع زراعت کا بڑا مرکز ویران ہوگیا۔ ہارٹیکلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ باغبانہ عدم توجہ کا شکار، سینکڑوں درخت خشک ہوگئے، افسران اور ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں لینے لگے۔ ڈائریکٹر ایچ آر آئی باغبانہ خضدار کئی مہینوں سے غائب، نایاب اور قیمتی درخت دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خشک ہونے لگے۔ ڈائریکٹر ایچ آر آئی باغبانہ خضدار پی ایس او کی غفلت اور عدم دلچسپی کی بنا ریسرچ سینٹر کے ہزاروں قیمتی درخت سوکھنے لگے۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایچ آر آئی باغبانہ نہ خود ڈیوٹی کرتا ہے اور نہ ہی دیگر افسران یا ملازمین کو ڈیوٹی کا کہتا ہے۔ باغبانہ میں قائم توسیع زراعت کا سب سے بڑا مرکز لاوارث ہے۔ بھیڑ، بکریاں اور شکاری ہمہ وقت باغ میں نظر آتے ہیں جبکہ واٹر سپلائی تقریباً ایک سال قبل خشک ہوچکی ہے، غفلت میں پڑے ڈائریکٹر کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ پورے خضدار میں پھل اور میوہ جات کے درخت لگانے کے لئے شعور وآگہی فراہم کرنے والا محکمہ خود عدم توجہ کا شکار ہوگیا۔ شہریوں کے مطابق یہاں نہ آفیسر موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی خدمات۔ ڈائریکٹر خضدار کے لئے مہمان کی حیثیت رکھتا ہے اور طویل عرصہ سے غائب ہیں۔ محکمہ میں چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ باغبانہ میں قائم کردہ بلوچستان ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر BARDC آج کل زبوں حالی کا منظر پیش کررہا ہے۔ پھل دار درخت خشک و خستہ ہوچکے ہیں۔ پانی کا بور خراب کئی ماہ سے درستی کا متقاضی ہے۔ خضدار کے عوامی حلقوں نے سیکرٹری زراعت اور وزیر زراعت اسد بلوچ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں