دعا زہرہ بالغ تو ہے لیکن سمجھدار نہیں، علامہ ناظر عباس نقوی
کراچی (انتخاب نیوز) شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری علامہ ناظر عباس نقوی نے کہا ہے کہ دعا زہرہ بالغ تو ہے لیکن سمجھ نہیں ہے، قانونی معاملات میں تضاد نظر آتا ہے، پسند کی شادی کے لئے سندھ کا قانون مختلف اور پنجاب کا مختلف ہے، شادی کراچی میں ہوتی ہے اور قانون کے سہارا لینے پنجاب چلے جاتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں شادی کے لئے لڑکی کی عمر 22سال کی جائے، پاکستان میں لڑکی کی عمر کا قانون یکساں ہونا چاہیے، سولجر بازار میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے مزید کہا کہ دعازہرہ کے والد لاہور سے واپس آرہے ہیں جو کل کراچی پہنچ جائیں گے، ہم عدالت یا ریاستی اداروں کے خلاف بات نہیں کریں گے ہم علمائے کرام نے دعا زہرہ کے والدین سے بات کی تھی عدالت کا فیصلہ کچھ اور ہے اور تفتیش کچھ اور کہہ رہی ہے، دعا زہرہ کیس کو اتنا الجھایا کیوں جا رہا ہے؟ لڑکی کے ولی کے اجازت نامے کے بغیر شادی نہیں ہو سکتی، لڑکی کا بالغ ہونا لازم ہے، حکومت سے گزارش ہے کہ اس کیس کے قانونی تقاضے پورے کرے، کون سا قانون ہے جو ماں باپ سے ملنے نہیں دیتا؟عدالت میں تماشے ہو رہے ہیں، ماں کو گھسیٹا جا رہا ہے، ماں کو بچی سے ملوانا چاہیے تھا، انہوں نے کہا کہ بچی پر دباؤ ڈال کر بیان دلوائے جا رہے ہیں، اس کیس میں جن قوتوں کا دباؤ ہے اس دباؤ کو ختم کیا جائے،پوری قوم کی نگاہیں اس کیس پر ہیں یہ عزت کا سوال ہے، دعا زہرہ کیس کو کسی دباؤ میں چلایا جا رہا ہے، سرکاری دستاویزات میں تضاد ہے، انھوں نے کہا کہ کسی کی عزت کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہیے۔


