ایٹمی دھماکہ سہنے والے پہاڑوں کے لوگ جھونپڑیوں میں زندگی بسر کررہے ہیں، اسد بلوچ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بی این پی عوامی بلوچ یکجہتی کی خواہاں ہے شرط ہے کہ یکجہتی بلوچستان اور بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایک پوائنٹ ایجنڈے پر تمام بلوچ متفق ہوں تو سب سے پہلے ہم آگے بڑھیں گے بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی کو ختم کرکے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے، بلوچستان کا مسئلہ خالصتا سیاسی ہے اور اس کو گفت و شنید کے ذریعے لیڈ کرنا چاہئے بزور طاقت مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ الجھتے ہیں طاقت کے زور پر اگر مسائل حل ہوتے تو افغانستان سے اتنی بڑی فوج ناکام ہو کر نہیں نکلتی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 28 مئی 1998ء چاغی کے پہاڑوں پر جو ایٹمی دھماکے کیے اور دنیا میں چھٹی ایٹمی حیثیت حاصل کی اور جشن منایا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ ان پہاڑوں کے لوگ آج بھی جھونپڑیوں میں زندگی بسر کررہے ہیں اور آج بھی ان کو مختلف طریقے سے آذیتیں دے رہے ہیں بلوچستان کے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائے کامریڈ رحمت اللہ بلوچ کو سینکڑوں ساتھیوں سمیت بی این پی عوامی میں شمولیت پر مبارکباد اور خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کامریڈ رحمت اللہ بلوچ کی سینکڑوں ساتھیوں سمیت بی این پی مینگل سے مستعفی ہو کر بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی میں شمولیت کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے کامریڈ رحمت اللہ بلوچبی این پی عوامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر ناشناس لہڑی، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ حسن بلوچ سی سی کے ممبر عبدالوکیل مینگل الٰہی بخش بلوچ ڈاکٹر یاسر شاہوانی پرویز بلوچ اکرام مینگل خلیل احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کی سیاست میں ہزاروں لوگوں نے قربانیاں دیں جنہوں نے قید و بند کی صوبعتیں برداشت کیے آج ان کو فراموش کیا گیا قربانیاں دینے والوں کی خاندانوں سے مراعا ت یافتہ طبقے نے آج تک نہیں پوچھا ان کی حال پرسی نہیں کی گئی۔ فدا بلوچ ایوب جتک، حبیب جالب بلوچ، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ سمیت کثیر تعداد میں فرزندان بلوچستان جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔ آج ہم جس جگہ بیٹھے ہیں انہی دوستوں کی قربانیوں کی وجہ سے ہیں، سیاست میں کئی گھر آباد ہوئے لیکن ہمارے لوگ آج بھی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ایک کروڑ 23 لاکھ کی آبادی اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ ان کو کب بنیادی حقوق ملیں گے، وسائل کے غیر منصفانہ تقسیم بلوچستان کو ایک کالونی کو طرح ٹریٹ کرنے کی وجہ سے مختلف مسائل کاسامنا کرنا پڑر ہا ہے، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ 70 ئکی دہائی میں ہم بلوچستان اور قوم کو ترقی اور خوشحالی کیلئے کردار ادا کررہے تھے لیکن بڑے دکھ کی بات ہے کہ آج تمام بڑے لیڈر مفادات تک محدود ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی عوامی کا اصل مقصد بلوچستان کی محرومی کا خاتمہ اور بنیادی حقوق کا حصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل اتحاد اور اتفاق میں ہے، بلوچستان کے وسائل جو آئین میں ہمارا اختیار ہے وہ وسائل ہمیں چاہئے۔


