پی ٹی آئی فا ٹا کی سابقہ حیثیت بحال کرنے کی خواہاں ہے،قبائلی جرگہ
پشاور/اسلام آباد :کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کابل میں مذاکرات کے حالیہ دور میں شریک ہونے والے قبائلی عمائدین نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ دو روزہ مذاکرات کے دوران طالبان کی جانب سے فاٹا کی سابقہ حیثیت بحال کرنے سمیت دیگرتمام مطالبات پر بات ہوئی ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب مذاکراتی کمیٹی میں شامل بعض شرکا نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان فاٹا کے انضمام کا فیصلہ واپس لینے کے علاوہ چند دیگر مطالبات سے تقریباً دستبردار ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کیلئے کابل بھیجی گئی اس کمیٹی کے 53 ممبران کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ اس کے ممبران میں طالبان پر اثر رکھنے والے قبائلی رہنماؤں اور عمائدین کے ساتھ ساتھ طالبان رہنماؤں کے قریبی رشتے دار بھی شامل ہوں۔مذاکراتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف اس کمیٹی کے غالباً واحد غیر قبائلی رکن ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یوں تو پہلے سے ہی فوج اورٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے لیکن تحریک طالبان اور بعض سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیچ کچھ مسائل حل طلب تھے جس کے لیے اس کمیٹی کے طالبان کے ساتھ کابل میں یہ مذاکرات ضروری تھے۔اْن کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی قیادت نے کابل مذاکرات میں اْن کے ساتھ سب سے زیادہ جس معاملے پر زور دیا وہ فاٹا کی قبائلی اور آزاد حیثیت کی بحالی کا تھا، مگر اس کے جواب میں انھوں نے طالبان پر واضح کر دیا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ پارلیمان کی منظوری سے ہوا ہے اور ایسے میں اگر کوئی اسے واپس بھی کرنا چاہے تو اس کے لیے قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت ضروری ہو گی جس کے بغیر یہ ناممکن ہو گا۔بیرسٹر سیف کے مطابق کابل میں دو دن کے دوران ایک، ایک دن میں مذاکرات کے چار، چار دور بھی ہوئے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دو دنوں کے دوران فریقین نے کتنی محنت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہاکہ طالبان کا زیادہ فوکس مستقبل میں اْن کی تنظیمی سرگرمیوں کی آزادی، نظام انصاف اور جرگوں کی آزادی پر تھا، اس لیے وہ انضمام کے عمل کو رول بیک کرنے پر زیادہ زور دے رہے تھے جس پر ہم نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ اب اس عمل کو قبائلی عوام سمیت سیاسی پارٹیاں بھی نہیں مانیں گی۔بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا کہ اس پر انھوں نے ہم سے وعدہ لیا کہ ہم اْن کی بات حکومت، فوج، عدالت اور سیاسی جماعتوں تک پہنچائیں گے تاکہ اْن کی معاشرے میں باعزت واپسی کو ممکن بنایا جا سکے اور ایسا راستہ نکالا جا سکے جس کے ذریعے وہ (طالبان) معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں،ہم نے انھیں پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا کے لوگوں کی جانب سے محبت کا پیغام پہنچایا جس کے جواب میں انھوں نے اس سیز فائر کو جو انھوں نے 30 مئی تک کیا تھا، کو غیرمعینہ مدت تک توسیع دے دی اور ہمارے اور ان کے مابین اس بات پر اتفاق بھی ہوا کہ ہم اس دوران کوئی ایسے بیان نہیں دیں گے جو مذاکرات کو سبوتاڑ کر سکیں۔‘تحریک طالبان کی جانب سے ماضی میں اٹھائے گئے مطالبات پر کیا وہ اب بھی قائم ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اس مذاکراتی کمیٹی کے ایک رْکن نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران طالبان کی جانب سے وہ تمام مطالبات دہرائے گئے جو انھوں نے عرصہ دراز سے اپنا رکھے تھے تاہم اس کے ساتھ ایسا بھی لگا کہ یا تو وہ انضمام کے علاوہ اپنے دیگر مطالبات سے دستبردار ہو چکے ہیں یا وہ ان مطالبات پر عسکری قیادت کے ساتھ بات کریں گے۔ٹی ٹی پی کی جانب سے مذاکرات کے لیے ماضی میں اپنے گرفتار رہنماؤں کی رہائی، قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی، آئین پاکستان پر اعتراضات اور فاٹا انضمام کا خاتمہ شامل تھا۔


