پولیس کی جانب سے جعلی خط دیا گیا، کراچی پریس کلب پر پرامن احتجاج جاری رہے گا، بلوچ یکجہتی کمیٹی
کراچی (انتخاب نیوز) لاپتہ دودا الٰہی اور گمشاد بلوچ کی بازیابی کیلئے کراچی پریس کلب پر لگائے گئے کیمپ کے شرکاء، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما امینہ بلوچ نے کہا کہ گزشتہ رات سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کے بعد پولیس نے رات ہمیں جعلی خط دیا اور آج سندھ پولیس ہمیں سندھ اسمبلی کے سامنے اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ امینہ بلوچ نے کہا کہ سندھ پولیس نے سی ٹی ڈی کے خط کے ذریعے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ ہماری ملاقات ان سے طے پا گئی ہے۔ اب پولیس کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اس بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔ ان کے مطابق سی ٹی ڈی اس خط کی تردید کر رہی ہے جو گزشتہ رات اس کے دفتر کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے متاثرین سے ملاقات کے بارے میں جاری کیا گیا تھا کہ وہ گمشدہ اور ڈوڈا کے اہل خانہ سے ملنے کو تیار نہیں ہیں۔ امینہ بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں اور دودا الٰہی اور گمشاد بلوچ کے اہل خانہ نے کہا کہ ہم گزشتہ 4 روز سے کراچی پریس کلب کے سامنے کیمپ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ کراچی پریس کلب کے سامنے بیٹھے چار دن ہو گئے ہیں لیکن گمشاد بلوچ اور دودا بلوچ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ دودا الٰہی اور گمشاد بلوچ کی بحفاظت رہائی کے لیے سوشل میڈیا مہم بھی چلائی جائے گی، بازیابی تک کراچی پریس کلب کے سامنے کیمپ میں ہمارا دھرنا جاری ہے۔ دودا الٰہی اور گمشاد بلوچ کی رہائی کے لیے ہمارا دھرنا کراچی پریس کلب کے سامنے جاری ہے، ہم تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ آج رات 12 بجے ہمارا ساتھ دیں۔


