انسپکٹر سجاد نے بلوچ خواتین کو برہنہ کرنے کی دھمکیاں دیں اور بچیوں کو زدوکوب کیا، آمنہ بلوچ
کراچی (انتخاب نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما آمنہ بلوچ، سمی دین بلوچ اور دیگر خواتین نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پرامن بلوچ خواتین مظاہرین پر پولیس کا تشدد بدترین ریاستی ظلم ہے۔ ہمارا احتجاج کراچی یونیورسٹی سے لاپتہ کیے گئے بے گناہ بلوچ طلبہ کیخلاف تھا۔ اس دوران پولیس کی جانب سے خواتین اور بچوں کے تقدس کا احترام نہ کرتے ہوئے پرامن بلوچ خواتین مظاہرین پر تشدد کرتے ہوئے ان کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، خواتین کے سر پر لاٹھیاں برسائی گئیں، بچیوں کے منہ پر طمانچے مارے گئے، موبائل میں زبردستی ڈالا گیا۔ موبائل میں لے جاتے ہوئے راستے میں پولیس والوں نے جو آرٹلری میدان تھانہ یا آرام باغ تھانہ کے تھے نے ہماری بیٹیوں اور بچیوں سے کہا کہ تم لوگوں کو جب پتہ چلے گا جب تم لوگوں کی شلواریں اتاری جائیں گی۔ پولیس والوں نے ہماری بچیوں اور بیٹیوں کو بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہمارے لڑکوں کے سروں پر ڈنڈے برسائے گئے، ان کے جسم پر تشدد کیا گیا، ان کے کپڑے پھاڑے گئے۔ پولیس والوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ہمیں حکم ہے کہ آپ لوگوں کو سندھ اسمبلی کی طرف نہ جانے دیا جائے۔ ہم لوگ سندھ اسمبلی کے سامنے جمہوری طریقے سے پرامن احتجاج کررہے تھے، ہم نے صرف اپنے لاپتہ بلوچ طلبہ کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا جس پر پوری حکومتی مشینری حرکت میں آگئی اور ہم پر بری طرح تشدد کیا گیا۔ بلوچ خواتین کے سر سے چادریں اتاریں گئیں جو قبائلی روایات کے منافی عمل تھا۔ تھانے میں بہت غیر اخلاقی سوالات کیے گئے۔ پولیس افسر انسپکٹر سجاد کی جانب سے سندھ اسمبلی کے سامنے مجھے اور نغمہ کو کہا گیا کہ آپ لوگوں کی طرف سے جو کچھ ہورہا ہے وہ آپ لوگوں کی بے غیرتی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ پولیس نے پرامن مظاہرین پر بدترین تشدد کیا گیا ہمارے 50 سے زائد افراد کو کلفٹن سمیت دیگر تھانوں میں رکھا گیا۔ ہمارا پہلا مطالبہ تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر کے خصوصی اختیارات کے تحت لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ راشی انسپکٹر سجاد کی بداخلاقی اور تشدد پر اس کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔


