محکمہ خوراک بلوچستان نے زمینداروں اور ڈیلرز سے گندم خریداری شروع کردی
ڈیرہ اللہ یار (انتخاب نیوز) محکمہ خوراک بلوچستان نے صوبے میں گندم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے جعفرآباد میں زمینداروں اور ڈیلرز سے گندم کی خریداری شروع کر دی مختلف فلور ملز پر چھاپے مار کر پانچ کروڑ روپے مالیت کی چار ہزار من سے زائد گندم تحویل میں لے لی ہے سیکرٹری خوراک بلوچستان ایاز مندوخیل نے اعتراف کیا ہے کہ گندم کی بروقت خریداری میں محکمہ خوراک ناکام رہا جس کے باعث صوبے میں گندم کی کمی کا سامنا ہے نصیرآباد ڈویژن سے دس لاکھ من گندم خریداری کا ہدف حاصل کرنے کے لئے محکمہ خوراک زمینداروں سے سرکاری مقررہ نرخ پر گندم خریدنا چاہتا ہے حکومت بلوچستان کو گندم فروخت نہ کرنے والوں کی گندم ضبط کی جائیگی اتوار کو ضلع کونسل ہال ڈیرہ اللہ یار میں گندم کی خریداری کے لئے منعقدہ اجلاس میں کمشنر نصیرآباد فتح خان خجک، ڈپٹی کمشنر جعفرآباد رزاق خان خجک اور مقامی زمیندار شریک ہوئے سیکرٹری خوراک ایاز مندوخیل نے اجلاس میں برملا اعتراف کیا کہ محکمہ خوراک کو گندم کی بروقت خریداری میں تاخیر ہوئی ہے جعفرآباد میں ایک کروڑ 12 لاکھ من گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی زمیندار اپنی گندم اوپن مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں جو کہ بعد ازاں دیگر ممالک کو ایکسپورٹ ہوگی جس سے بلوچستان میں آٹے کا بحران پیدا ہوگا گندم کی کمی کو پورا کرنے اور آٹا کے ممکنہ بحران پیدا ہونے سے روکنے کے لئے زمیندار اپنی گندم محکمہ خوراک کو سرکاری مقررہ نرخ 24 سو روپے فی من فروخت کریں دوسری جانب محکمہ خوراک جعفرآباد کے اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر غلام مرتضیٰ جمالی نے نائب تحصیلدار جھٹ پٹ محمد ظریف گولہ اور ایس ایچ او عبدالروف جمالی کے ہمراہ مختلف فلور ملز پر چھاپے مار کر پانچ کروڑ روپے مالیت کی چار ہزار من سے زائد گندم تحویل میں لیکر فلور ملز مالکان کو سرکاری نرخ پر ادائیگی کر دی دوسری جانب اجلاس میں زمینداروں حاکم علی جمالی، علی نواز عمرانی، حذب اللہ بگٹی و دیگر نے سیکرٹری خوراک ایاز مندوخیل کمشنر نصیرآباد فتح خان خجک اور ڈپٹی کمشنر رزاق خان خجک کو بتایا کہ دسمبر میں گندم کی فصل تیار ہو جاتی ہے اور جنوری سے فروری تک مارکیٹ میں آجاتی ہے محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی خریداری کے لیے سینٹرز قائم نہیں کیے گئے پاسکو نے باردانہ بھی بھاری رقم کے عوض دینے کا کہا زمینداروں کو مختلف حربوں سے تنگ کیا جاتا ہے جس کے باعث زمیندار مجبور ہو کر اوپن مارکیٹ میں نقد پر سرکاری قیمت سے چند سو روپے کم پر گندم فروخت کرتے ہیں۔


