ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر وزیر دفاع ایوان کو آگاہ کریں،پیپلز پارٹی سینیٹ میں برہم
اسلام آباد:سابق چیئر مین سینٹ رضا ربانی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر دفاع ایوان کو طالبان کیساتھ ہونے والی سیز فائز بارے آگاہ کریں،تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے سابق فاٹا کی بحالی پر کا بھی مطالبہ آنے کی خبریں ہیں،جرگہ بھیجنا یقینا اچھی بات ہے،ایوان اس مذاکرات کے حوالے سے بالکل لاعلم ہے۔چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹر نزہت صادق کی والدہ کیلئے دعا ئے مغفرت کی گئی۔ پوائنٹ آف آرڈر پر سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ میں کرپشن کی گئی ہے،مالاکنڈ ڈویژن کے جنگلات میں آگ لگنے کی محرکات کا پتہ لگنا چاہئے،اس معاملے کو پہلے ہی کمیٹی کو بھیج دی گئی ہے۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ وزیرستان میں چار نوجوانوں کو بے دردی سے جاں بحق کیا گیا۔سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل آیا ہے،یہ پی ٹی آئی کی حکومت کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے،قائد ایوان سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ کچھ معاملات پر قومی مفاد کو ترجی دینی ہوتی ہے،فیٹف کا معاملہ قومی سلامتی کاہے،فیٹف کے بل پر صرف آزادی اظہار سے متعلق شق پر ہی اختلاف کیا تھا،یہ صرف ایک یاسی شخصیت،صرف ایک رکن اسمبلی اور صرف ایک سرکاری افسر کی کوشش نہیں،پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔قائد حزب اختلاف سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ سابق قبائلی علاقے سیاسی رسہ کشی کا شکار بنتے جارہے ہیں،سیفران کمیٹی کی رپورٹس کی میرٹ اور ڈی میرٹس پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ فاٹا کا انضمام دیرینہ مطالبہ تھا،یہ سہرا بھی نواز شریف کے سر ہیں،دہائیوں سے اٹکا ہوا مسئلہ حل کیا،سینیٹ کمیٹی نے جو ریکوری کی ہے وہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے بیس سالوں میں کوئی ایسا مرحلہ گزراہو کہ نیب قوانین بارے شکایات نہ آئیں ہو،نیب قوانین کو مختلف ادوار میں سیاسی انجینیرنگ کیلئے استعال کیا گیا۔قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اپوزیشن محنت کریں حسد نہ کریں،کوے کو سفید کہنے سے وہ سفید نہیں ہوجاتا،میری تقریر کو غور سے سنیں اس کو جلسہ گاہ نہ بنائیں،قائد حزب اختلاف کو میں نیب ترامیم کے حوالے سے مناظرے کا چیلنج دیتا ہوں،آج تک نیب کو استعمال کیا جاتا رہا۔


