بلوچستان وسندھ میں پانی کی تقسیم کے تنازع میں شدت، غدائی قلت کا خدشہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان وسندھ میں پانی کی تقسیم کے تنازعہ میں شدت، کوئٹہ کے 30 فلور ملز بند، غذائی قلت کا خدشہ۔ کوئٹہ،بلوچستان اور سندھ میں پانی کی تقسیم کا دیرینہ تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ پانی کے شدید بحران سے غذائی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ گندم نہ ہونے کے باعث کوئٹہ میں تیس فلورملیں بند کردی گئی ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان اورصوبہ سندھ کے مابین پانی کی تقسیم کا معاملہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ بلوچستان حکومت کے مطابق سندھ کی جانب سے بلوچستان کو طے شدہ مقدار سے 80 فیصد کم پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس سے زرعی شعبہ تباہی کے دہانے تک جا پہنچا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل خشک سالی سے متاثرہ صوبہ بلوچستان میں پانی کی کمی کے باعث غذائی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ صوبائی محکمہ آبپاشی کے ایک سینئر اہلکار احسن داو¿د کہتے ہیں کہ صوبے میں پانی کے بحران سے زرعی شعبے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، پاکستان میں صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے لیے 1991ءمیں جو معاہدہ طے ہوا تھا اسے سندھ حکومت نے یکسر نظرانداز کر دیا ہے۔ بلوچستان کو طے شدہ فارمولے کے تحت پانی نہیں مل رہا۔ اس وقت صوبے میں پانی کا بحران اس قدر شدید ہے کہ کسان پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ صوبائی سطح پر اس معاملے کو کئی بار متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جاچکا ہے مگروہاں سے مسلسل غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔“ احسن داو¿د کے بقول بلوچستان کو اس کے حق کا پانی فراہم نہ کیا گیا تودونوں صوبوں کے درمیان اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ”بلوچستان ملک میں نہری نظام کے آخری حصے پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں دریاو¿ں کا پانی سندھ کے راستے گدو اور سکھر بیراج سے پٹ فیڈراور کیرتھر کینال کے ذریعے صوبے کو ملتا ہے۔ بلوچستان کوطے شدہ فارمولے کے تحت پانی کے کٹوتی سے استثنیٰ بھی حاصل ہے لیکن اس فارمولے پر سندھ حکومت کوئی عمل درآمد نہیں کر رہی ہے۔


