ٹی ٹی پی کی سخت شرائط میں فاٹا انضمام اور قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی پر عمل ممکن نہیں، مبصرین
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان امن معاہدے کی تفصیلات کے مطابق مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر بظاہر اتفاق ہوا ہے تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کے لیے انتہائی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں جن میں سے قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ واپس لینا ایک ہے۔ ٹی ٹی پی کی دوسری سخت شرط قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی ہے جس پر عمل کرنا حکومت پاکستان کیلیے فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی نے پاکستانی حکام کو اپنے 102 ارکان کی رہائی کے لیے ایک فہرست بھی فراہم کی تھی جس میں سے چند ایک کی رہائی کی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں تاہم کچھ ایسے افراد جن پر قتل سمیت دیگر سنگین الزامات عائد ہیں ان کی رہائی کے لیے ابھی بات چیت ہو رہی ہے۔ ٹی ٹی پی کے ارکان کی پاکستان واپسی سے متعلق حکومت پاکستان نے ان سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور ان سے ضمانت طلب کی ہے کہ وہ ہتھیار پھینکیں گے اور آئندہ غیر مسلح اور پرامن رہیں گے۔ پاکستان اور افغانستان کے سلامتی امور پر گہری نظر رکھنے والے پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر سعد محمد کے مطابق بظاہر ان مذاکرات کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا اور اگر یہ کامیاب ہو گئے تو یہ مکمل طور پر ٹی ٹی پی کی شرائط پر ہوں گے۔ مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر ہونے والے اتفاق کی اطلاع عملی طور پر موثر نہیں ہے کیونکہ اب بھی پاکستانی سرکاری اداروں بالخصوص پولیس پر حملے جاری ہیں۔ اگر مذاکرات کے بعد کوئی معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو اس کی پاسداری کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ ٹی ٹی پی ماضی میں بھی متعدد بار اپنی باتوں سے پھر چکی ہے۔ وہ کئی بار دھوکہ کرچکے ہیں۔ ان سے آخر میں لڑائی ہی لڑنا پڑے گی۔ ان کی شرائط کہ قبائلی علاقوں کا انضمام واپس لیا جائے اور وہ اسلحے کے ساتھ واپس آئیں گے، بہت سخت ہیں۔ فاٹا انضمام کی واپسی کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔


