مدعیوں کو پھنسانے کیلئے اغواء تشدد کا بھانڈا پھوٹ گیا، گرفتار ساتھی نے پولیس کو سچ بتا دیا
کراچی (انتخاب نیوز) سلے ہونٹ، زنجیروں میں جکڑے، تشدد زدہ شخص کے ملنے کی واردات کا ڈراپ سین، پولیس نے تشدد زدہ شخص کے ساتھی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔ ڈاکس کے علاقے مائی کولاچی کے پھاٹک کے قریب سے صبح سویرے پولیس کو نیم بے ہوشی کی حالت میں رمضان ولد محمد دین نامی شخص پڑا ملا، جس کے ہونٹ سلے، جسم پر لگے زخموں میں لوہے کی کیلیں تھیں جبکہ پیروں میں تالا بند زنجیر تھی، پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کے قریب ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی جیب میں زنجیر پر لگے تالے کی چابی تھی، پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کو حراست میں لیکر تھانے جبکہ زخمی کو سول اسپتال منتقل کیا گیا، تشدد زدہ شخص نے ہونٹ کے تار کاٹے جانے کے بعد بیان دیا کہ اس کا تعلق پتوکی حبیب ٹائون سے ہے جہاں غلہ منڈی میں اس کی بیچ کی دکان تھی،مذکورہ شخص نے مزید بتایاکہ اس کے سالوں اقبال، ریاض، اعجاز، غلام صادق، واپڈا والا اشرف، عباس نے اسے مبینہ طور پر چار ماہ قبل اغواء کیا اور آج صبح اسے پرانی پجارو میں پنجاب سے بذریعہ پرانے ماڈل کی پجارو میں کراچی منتقل کیا، رمضان کے مطابق ملزمان کے ہمراہ ہاتھوں میں کنگن پہنے ایک خاتون بھی گاڑی میں موجود تھی جو پولیس کے ہر ناکے پر ایک مخصوص کارڈ دکھاتی جس کی وجہ سے گاڑی کی تلاشی بھی نہیں لی جاتی، رمضان کے مطابق اس نے 2021 میں دوسری شادی کے بعد دوسری بیوی کو طلاق دیدی تھی جس پر دوسری بیوی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے اغواء کرایا، رمضان کے مطابق چار ماہ تک روز تشدد کیا جاتا تھا،تاہم ایم ایل او گلزار کے مطابق متاثرہ شخص کے جسم پر موجود تازہ زخموں کے علاوہ تشدد کا کوئی اور نشان نہیں ہے، پولیس کے مطابق زخمی شخص بلدیہ ٹائون کا رہائشی ہے، زخمی کے ساتھ موجود شخص نے گرفتاری کے بعد بھانڈا پھوڑ دیا، پولیس کے مطابق زخمی کے ساتھی عارف ولد محمد نعیم سے پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ رمضان کے خلاف پتوکی میں مقدمات درج ہیں جس پر دونوں نے مل کر سارا ڈرامہ رچایا، زخمی شخص نے پتوکی میں درج مقدمات کے مدعیوں کو پھنسانے کے لئے ڈرامہ کیا، پولیس کے مطابق زخمی شخص نے نیند کی گولیاں کھائیں اس کے بعد اس کے ساتھی نے زخم بنائے، اہلکاروں نے دونوں کو موقع پر ساتھ پکڑ کر سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا، پولیس کے مطابق زخمی کے ساتھی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا جس سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔


