ریکوڈک معاہدے کے تحت بلوچستان کا حصہ 25 فیصد کردیا گیا ہے،فرح عظیم شاہ
کوئٹہ:ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے ریکوڈک منصوبے کے معاہدہ کوبلوچستان کے لیے گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کے معاہدے سے سالانہ صوبے میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ 8000 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔معاہدے کے تحت بلوچستان کا حصہ 25 فیصد کردیا گیا ہے جبکہ رائیلٹی اور سی ایس آر کی مد میں بھی مزید حصہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں ریکوڈک منصوبے پر بہترین معاہدہ کر کے وسائل کا تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کے مفاد اور نوجوانوں کے روزگار کا تحفظ کرے گی جبکہ منصوبے میں بلوچستان کو کوئی سرمایہ کاری بھی نہیں کرنی پڑے گی جس سے پاکستان خصوصا بلوچستان کے عوام کو اس معاہدے سے فائدہ ہوگا انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدہ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک معاہدے کے تحت تعمیر نو کے اس منصوبے میں 50 فیصد کمپنی اور 50 فیصد پاکستان کے سٹیکس ہوں گے، جس میں 10 فیصد فری کیریڈ، غیر شراکت دار حصہ حکومت بلوچستان کے پاس ہوگا۔اضافی15 فیصد حصہ کمپنی کے پاس ہے جو حکومت کی ملکیت ہے۔ جبکہ بلوچستان کو 25 فیصد اضافی حصہ دیا جائے گا۔ اس طرح ریکوڈک منصوبے میں صوبے کو 40فیصد کا حصہ ملے گا۔جبکہ کمپنی اس منصوبے کا آپریٹر ہوگا جیسے کان کنی کی لیز، ایکسپلوریشن لائسنس، سطح کے حقوق اور معدنیات کا معاہدہ دیا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت سو سال تک جو بھی ریونیو ہوگا وہ صوبے کے حصے کے مطابق اس کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونگے۔


