کراچی،سندھ ہائی کورٹ کا لاپتہ اختیارسوڈھرکو بازیاب کرانے کا حکم
کراچی:سندھ ہائی کورٹ کا لاپتہ اختیارسوڈھرکو بازیاب کرانے کا حکم۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ اختیارسوڈھرکو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 19 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔پیرکوسندھ ہائی کورٹ میں وکیل مختیارسوڈھرکے بھائی اختیارسوڈھر کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزارکی جانب سے حیدر امام رضوی، کراچی بار ایسوسی ایشن صدر سمیت سینئر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پولیس کہتی ہے سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے۔وکیل رینجرز نے کہا کہ رینجرزکے پاس نہیں ہے۔عدالت نے پوچھا کہ کس وجہ سے لے کر گئے ہیں۔ وکلا نے جواب دیا کہ وجہ معلوم نہیں ہے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ اگر کسی پر شک ہے تو بتائیں۔درخواست گزارحیدر امام رضوی نے کہاکہ اگر کسی پر شک ہے تو بتادیں سارا بوجھ درخواست گزار پر ڈال دیں،لاپتہ کا بڑا بھائی کراچی بار کا ممبر ہے یہاں پریکٹس کرتا ہے۔وکلا نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے آ کربتاتے ہیں کہ ایجنسیوں والے لے گئے تھے۔ کسی کو لاپتہ کرنا بنیادی حقوقِ کی خلاف ورزی ہے۔حیدر امام رضوی وکیل درخواست گزارنے کہا کہ یہ صرف آ کر سادہ سا بیان دے رہے ہیں کہ لاپتہ شخص ہمارے پاس نہیں ہے۔وکلا نے کہا کہ ان کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج ہے نادرا سے شناخت کرالیں۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ ایک اسٹوڈنٹ ہے اس کو بازیاب کروائیں۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہمارے افسراں نے تمام اداروں کو خطوط لکھے ہیں۔عدالت نے کہا کہ ایک قانون کا طالب علم ہے اس کو کس وجہ سے لے کر گئے ہیں ہمیں کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے بچے کو لے کر آئیں۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ اگرلاپتہ طالب علم کے خلاف کوئی الزام ہے تو ہمیں بتائیں، آئندہ سماعت پربچے کو لے کر آئیں۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم اس مسئلے کو بہت سنجیدہ لے رہے ہیں۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پہلے وکیلوں کو ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں اب انہیں لاپتہ کیا جارہا ہے۔ 16 جون کو اختیار سوڈھر کو لاپتہ کیا گیا ہے۔عدالت نے لاپتہ اختیارسوڈھرکو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کردی۔


