پاکستان میں پشتونون کیلئے خود مختار صوبہ افغانیہ کا قیام عمل میں لایا جائے،محمود خان ا چکزئی

گلستان: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان ا چکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دو علیحدہ ممالک ہیں۔ اگر ایک طرف پاکستان کو مشکلات اور بحرانوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف افغانستان بھی مشکلات میں گھیرا ہوا ہے، پاکستان اور افغانستان کو باہمی احترام،عدم مداخلت کے اصولوں پر مبنی اور ایک دوسرے کے آزادی،استقلال کے احترام اور بھائی چارے اور اچھے ہمسائے کی بنیاد پر معاہدہ کرنا چاہیے۔ ڈیورنڈ لائن کے اس پار پاکستان میں رہنے والے پشتونوں کی افغانستان کے ساتھ تعلقات میں نرمی رکھنے کی بات اْس وقت ممکن ہے جب پاکستان میں پشتونوں کی قومی وحدت،قومی تشخص پر مبنی قومی متحدہ خودمختار صوبہ پشتونستان، پشتونخوا یا افغانیہ کا قیام عمل میں آئے اور پشتونوں سمیت پاکستان میں تمام اقوام کی قومی برابری،ملک میں آئین کی بالادستی،پارلیمنٹ کی خودمختیاری، قانون کی حکمرانی اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ختم کرنے، اقوام کے مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے، فوج میں ہر قوم کو آبادی کی بنیاد پر حصہ دینے، سینٹ کے اختیارات قومی اسمبلی کے برابر کرنے اور قوموں کے وسائل پر اْن کا اختیار تسلیم کرنے سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید کے تیسرے روز اپنی رہائش گاہ عنایت اللہ کاریز گلستان میں پارٹی کارکنوں اور بہی خواہوں کی آمد کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جلسے کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض پارٹی کے صوبائی رابطہ سیکرٹری علاؤالدین کولکوال نے سرانجام دیئے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری ندامحمد نے حاصل کی۔ محمودخان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح ہمارے وطن اور عوام کو اب بھی مشکلات درپیش ہیں یہاں ہمارے ملک پاکستان کو ہر شعبہ زندگی میں مشکلات اور بحرانوں کاسامنا ہے اور وہاں افغانستان میں بھی تمام افغان ملت کو سنگین مسائل ومشکلات کا سامنا ہے ایسے حالات میں عقل سلیم سے کام لینے کی ضرورت ہے اور اپنے عقل کو ایک دوسرے کے ساتھ شریک کرتے ہوئے ایسی نجات کی راہ اپنانی ہوگی جو دونوں ممالک اور عوام کیلئے خیر اور ترقی کا باعث ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران بنو کے تاریخی جرگے کا کامیاب انعقاد قابل تحسین ہے اْ س کے اعلامیہ کی روشنی میں قوم کے مسائل کو حل کرنے اور جرگے کو ایک مستقل جرگے کی حیثیت دینے کے کام کو بھی جلد شروع کیاجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو علیحدہ علیحدہ ممالک ہیں ڈیورنڈ لائن کے اس پار رہنے والے پشتون اس وقت پاکستان کا حصہ ہے اور پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چوہدری رحمت علی نے کہا تھاکہ پ سے پنجاب۔ ا لف سے افغانیہ، س سے سندھ، ک سے کشمیر،تان سے بلوچستان اس لیئے تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان میں رہنے والے ہرقوم کی قومی تشخص واضح ہو۔ لیکن پاکستان کے قیام سے لیکر آج تک پشتون افغان ملت کو پاکستان میں قومی وحدت، قومی تشخض اور حقوق واختیارات نہیں دئیے گئے جبکہ پاکستان کے حکمران اور مقتدر قوتیں یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے پشتون افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں نرمی پیدا کرلیں اور کابل کی بجائے اسلام آباد کو اپنی امیدوں کا مرکز بنالیں۔ حالانکہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اولین رہنماء تھے جنہوں نے لاہور کی عدالت میں 1956میں بیان دیتے ہوئے کہا تھاکہ پشتون افغان غیور عوام انتہائی جمہوری لوگ ہیں اسطرف کے پشتون افغان عوام کے ڈیورنڈ کے اْس پار افغان عوام کے ساتھ نسل،زبان، ثقافت اور تاریخ پر مبنی تعلقات ہیں اگر پاکستان کے حکمران یہ چاہتے ہیں کہ ڈیورنڈ کے اس پار پشتون افغان عوام افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں نرمی پیدا کریں تو اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں پشتونخوا وطن کی قومی وحدت،قومی تشخص پر مبنی متحدہ قومی خودمختیارصوبہ پشتونستان کی تشکیل ہو اور زندگی کے ہر شعبے میں برابری اور سیالی کی بنیادپر حقوق واختیارات کا تعین ہو۔ حالانکہ افغانستان ہمارے آباؤ اجداد کا وطن اور قبرستان رہ چکا ہے جبکہ افغانستان کے ساتھ پشتونوں کا تاریخی تعلق ہے۔ جس طرح فرانس کے جرنل ڈیگال نے انتہائی دور کینڈا کے ایک صوبے میں رہنے والے فرانسیسیوں کی مشکلات پر آواز بلند کی تھی اسی طرح پشتون چاہے کسی بھی پارٹی میں ہو افغانستان کی ترقی وخوشحالی اور تباہی وبربادی اْس پر اثرانداز ہوتی ہے اور ہم کسی کو یہ حق نہیں دے سکتے کہ خدانخواستہ وہ افغانستان کی تباہی وبربادی میں ملوث ہو اور خدانخواستہ ہم چْپ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے وقت بھی اچھا ملک تھا اور اقوام کی جمہوری فیڈریشن کے ذریعے اسے اچھے طریقے سے چلایا جاسکتا تھا اور اْس کے ٹوٹنے کی بجائے ترقی کرسکتا تھا۔ لیکن سول فوجی بیوروکریسی اور عدلیہ سمیت اْن کی غلط سیاست اور غلط پالیسیوں کے باعث پاکستان سنگین بحرانوں میں مبتلا ہوچکا ہے۔ دو ہاتھ کی مزدوری کرنیوالے غریب عوام کی اکثریت کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور آنیوالے مہینوں میں مہنگائی مزید بڑھ جائیگی اور اس کی وجوہات وہ غلط قرضے اور پیمٹ ہیں جس کی اب ادائیگی ممکن نہیں رہی بلکہ ملک کے حکمران قرضہ لیتے ہوئے آدھے سے زیادہ رقم واپس قرضوں کی ادائیگیوں پر خرچ کرتی ہیں۔ اور ملکی قرضہ تقریباً 40تا 47ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو انتہائی خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی مشکلات دنیا کے اْن زور آور ملکوں کی جانب سے چالیس سالہ مسلط جنگ کے باعث پیدا ہوئی جنہوں نے افغانستان کو تباہی وبربادی کے آخری مقام تک پہنچایا اور جس میں پشتون افغان ملت کے عزتوں کو بھی پائمال کیا گیا۔ افغانستان کے رہنماؤں حامد کرزئی، مْلا محمد یعقوب سمیت سب نے یہ آواز بلند کرنی ہوگی کہ دنیا کہ یہ زور آور ممالک افغانوں کے قرض دار ہیں اور افغانستان کی تعمیر وترقی میں ان سب نے لازماً حصہ لینا ہوگا۔ حالانکہ دنیا کے حکمران دوسری طرف کہتے ہیں کہ پشتون افغان دہشتگرد ہیں جبکہ پشتون افغان کسی کے پیچھے نہیں گئے ہیں بلکہ دنیا کے زور آور افغانوں کے وطن پر حملہ آور ہوکر ان کے گھروں میں گھْس گئے تھے۔اور دنیا میں یہ اصول سب کیلئے مسلمہ ہے کہ ہر قوم کو اپنی آزادی اور استقلال کے دفاع کا حق حاصل ہے اور افغانستان ہمیشہ سے دنیا کے زور آور ملکوں اور سلطنتوں کا قبرستان رہا ہے۔ سکندر یونانی سے لیکر اب تک جو بھی زور آزما افغانستان پر حملہ آور ہوا ہے وہ افغانستان ہی میں غرق ہوا ہے۔ پاکستان اور ایران بھی یہ غلطی نہ کریں کہ دنیا کے فلانا ملک نے اگر فلانا غلطی نہ کرتے تو افغانستان پر قابض ہوجاتے ہم پاکستان اور ایران سے درخواست کرتے ہیں کہ افغانستان کو اس بْری نیت سے نہ دیکھیں ورنہ انہیں بھی پچھتانا پڑیگا۔جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل عرصے سے بدگمانیاں موجود ہیں صدر غلام اسحاق نے ملکی بجٹ بناتے ہوئے افغانستان کیلئے بجٹ رکھتے ہوئے انہیں پانچواں صوبہ قرار دیا تھااور پاکستان کے حکمران اور مقتدر قوتیں سٹریٹیجک ڈیپتھ کے منصوبوں پر عمل پیرا تھے۔ ان تصورات کے باعث بدگمانیوں میں مزید اضافہ ہوا۔ جبکہ پاکستان اور افغانستان اب مزید مشکلات سے گلوخلاصی حاصل کرسکتے ہیں اگر پشتونخواملی عوامی پارٹی کی اس تجویز پر عملدرآمد کیا جائے کہ پاکستان اورافغانستان ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام،برابری ایک دوسرے کے آزادی اور استقلال کا احترام کرتے ہوئے عدم مداخلت کی بنیاد پر مذاکرات اور معاہدہ کریں۔ اس طرز فکر اور رویہ کی بنیاد پر اچھے ہمسائیگی اور اچھے تعلقات بن سکتے ہیں حالانکہ انگریز نے افغانستان پر حملہ آور ہونے کے بعد انگریزوں میں بھی دو فکر کے لوگ تھے ایک فکر کے لوگ یہ چاہتے تھے کہ افغانستان کے قبضہ شدہ علاقے واپس کرکے آزاد اور مستقل افغانستان کی حمایت کی جائے جبکہ دوسرے فکر کے لوگ افغانستان پر حملہ آور ہوکر اسے قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اور نتیجے میں انگریزی استعمار کو دنیا میں پہلی شکست افغانوں کے ہاتھوں ہوئی اور پھر دنیا بھر میں انگریزوں کی شکستیں رونماء ہوتی رہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی ایک اچھا اور جمہوری فیڈریشن بن سکتا ہے،ملک میں تمام اقوام کو برابری کی بنیاد پر حقوق واختیارات دیتے ہوئے انہیں ان کے وطن کی حق ملکیت اور حق حاکمیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اور پاکستان میں آباد پشتونخواوطن کے پشتونوں کیلئے کابل کی بجائے اسلام آباد کو اپنے سیاست اور امیدوں کا مرکز بننے کی بات ملک کے حکمران جس انداز میں کرتے ہیں اْن پر واضح کرتے ہیں کہ ہم پشتون افغان ملت کی طرف سے ہاتھ بڑھاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں پشتونخواوطن کی تقسیم در تقسیم حصوں کو ملاکر قومی خودمختار پشتونستان صوبے کے قیام،برابری اور سیالی آئین وقانون کی حکمرانی،پارلیمنٹ کو طاقت کاسرچشمہ تسلیم کرنے اور سیاست میں ایجنسیوں کی مداخلت ختم کرنے کے بعد ایسے مسائل حل کیئے جاسکتے ہیں۔حالانکہ دوسری طرف یہ کہا جارہا ہے کہ فوج نے سیاست میں مداخلت ختم کردی ہے جوکہ خوش آئندہے لیکن افسوس کے چمن پوائنٹ سمیت تمام راستوں پر تجارت اب بھی کرنل رینک کے آفیسران کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چمن سے لیکر طورخم تک ڈیورنڈ لائن پر پشتون افغان عوام کے آنے جانے کے مختلف راستے متعین ہیں انہیں دن رات کھلا رکھنا ہوگا اگر کوئی ان راستوں سے منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ میں ملوث ہو تو ان کیلئے ہر سزا قبول ہیں لیکن اگر پاکستان اور افغانستان کے تاجران ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے ہیں تو یہ اْس وقت ممکن ہے جب دونوں ممالک برابری کی بنیاد پر عدم مداخلت کا معاہدہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات پر افغان طالبان کو بھی تحفظات ہیں۔ اور جہاں تک پاکستان میں پشتونوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی شروعات کی بات ہے تو اس کی شروعات علی وزیر کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے سے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی علی وزیر کے حوالے سے ہر قسم کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہیں۔ اور دوسری طرف ہمیں اس بات پرمجبورنہ کیا جائے کہ ہم علی وزیر کی رہائی کیلئے ملک بھر سمیت دنیا بھر میں احتجاج کی کال دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں طالبان سے کہتا ہوں کہ بچیوں کی تعلیم ضروری ہے اور موجودہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ان سے انکار ممکن نہیں۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اہلیہ محترمہ بی بی عائشہؓ کی علم سے آگاہی تمام دنیاپر ثابت ہے طالبان کو بھی تمام شعبوں میں خواتین کو حقوق دینے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے علماء کا جرگہ منعقد کرکے صحیح قدم اٹھایا ہے اب انہیں افغانستان کے تمام اقوام وعوام اور سیاسی قوتوں پر مشتمل نمائندہ لویا جرگہ کا انعقاد کرکے جہانی زور آور قوتوں کے سامنے یہ آواز بلند کرنا ہوگا کہ وہ افغانستان کو کسی نئے جنگ کا مرکز نہ بنائیں اور افغانستان کی آزادی واستقلال اور ارضی تمامیت کے دفاع کیلئے متحد ومنظم ہو۔انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے اور افغانستان کے مالی وسائل کی بندش قابل قبول نہیں پشتونخوامیپ مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان کے روکے گئے خطیر رقم کو فوری طور پر واپس کرنا ہوگا جو افغان ملت کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے سیاسی جمہوری قوتوں اور نمائندہ افراد پر مشتمل جرگہ بنائے اور افغانستان اپنے سیاسی جمہوری قوتوں اور نمائندہ افراد پر مشتمل جرگہ بنائے اور پھر دونوں ممالک کے جرگے اسلام آباد اور کابل میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار تعلقات،تجارت، عدم مداخلت اور دیگر تمام امور کا تعین کریں اور ایک دوسرے کو اس بات کی ضمانت دیں کہ کوئی بھی ملک ان جرگوں اور ان کے فیصلوں اور متعین پالیسیوں سے مستقبل میں انحراف نہیں کریگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بارشوں اور سیلابوں کے باعث جس علاقے میں بھی نقصانات ہوئے ہیں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے ہر ضلع میں اْن کی تفصیلات لکھ کر جمع کرنی ہونگی تاکہ اْن کے نقصانات کے ازالے کیلئے حکومت وقت کے سامنے رکھا جاسکے۔ اور اگر حکومتوں نے ان نقصانات کے ازالے کیلئے اقدامات نہیں کیئے تو ہمیں مجبوراً دھرنے سمیت ہر قسم کے سیاسی جمہوری احتجاج کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی امیدواروں کی کامیابی خوش آئند ہے لیکن جن علاقوں میں غلطیاں ہوئی ہیں آئندہ اْن کا ازالہ بھی ضروری ہے۔اور اب اگلے مرحلے میں پارٹی نے اتحاد کے ذریعے آگے بڑھنے کے فیصلہ کیا ہے۔ اس اتحاد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور اس کی پابندی ہر ضلع کیلئے لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ہر سطح کے عہدیداروں اور کارکنوں نے پارٹی نظم وضبط پر قائم رہتے ہوئے صرف اور صرف اپنی پارٹی کی ممبر شپ رکھنی ہوگی اور اپنی پارٹی کے رکن ہوتے ہوئے دوسرے کسی بھی پارٹی یا تنظیم کا رکن نہیں بن سکتا اور بغیر کسی اتحاد یا اجازت کے دوسرے پارٹیوں اور تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا کے ہر علاقے میں مزید ابتدائی یونٹوں اور علاقائی یونٹوں کے قیام اور پارٹی کو ہر سطح پر وسیع اور فعال بنانے میں پارٹی عہدیداروں نے اپنی صلاحیتوں کو دوبالا کرتے ہوئے مسلسل محنت سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ژوب کے علاقے دہانہ سر کے مقام پر بس حادثے میں طلباء سمیت دیگر افراد کے شہادت اور حالیہ بارشوں اور سیلابوں میں ہونیوالے شہید ہونیوالے افراد پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ان کیلئے مشترکہ اجتماعی دعا کی۔ انہوں نے جلسے کے آخر میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر‘ پشتونخوا زندہ آباد‘ افغانستان زندہ آباد اور پاکستان زندہ آباد کے نعریں لگائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں