تمام غیر ملکی پناہ گیروں کو واپس اپنے ملکوں میں بھیجا جائے،سندھ ایکشن کمیٹی
کراچی :سندھ ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ بلال کاکا کے قاتلوں کو گرفتار کر کے اس کے خون کے ساتھ انصاف کیا جائے، افغان پنا ہ گیر سمیت دوسرے دیگر تمام غیر ملکی پناہ گیروں کو واپس اپنے ملکوں میں بھیجا جائے۔ موثر قانون سازی کے ذریعے پاکستان کے دوسرے صوبوں سے سندھ میں روزگار کے لئے آئے ہوئے افراد کو ڈومیسائل، پی آر سی، شناختی کار ڈ اور ملکیت خرید کرنے اور ووٹ کے حقوق سے محروم کیا جائے۔کراچی میں افغان پنا ہ گیروں اور دیگر غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی کچی آبادیوں کو ریگیولرائیزکرنے کے لئے سندھ اسمبلی سے پاس کیا ہوا بل واپس لیا جائے۔ آبادیوں اور اہم شاہراوں پر پرتشدد کاروائیوں میں ملوث افغانوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ پورے سندھ میں سے گرفتار کئے گئے پر امن قومی کارکنوں کو فوری طور پر آزاد کیا جائے۔سندھ ایکشن کمیٹی نے مطالبات کی منظوری کے لئے 21 اگست 2022 ء کو حیدرآباد میں سندھ ایکشن کمیٹی کی طرف سے جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا۔سندھ ایکشن کمیٹی کا سربراہی اجلاس کنوینر سندھ ایکشن کمیٹی سید جلال محمود شاہ کی زیر صدارت جی ایم سید ایڈیفیس جامشورہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، قومی عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو، جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو، جئے سندھ محاذ کے سربراہ عبدالخالق جونیجو، عوامی جمہوری پارٹی کے صدر لعل شاہ، پوریت مذاہمت تحریک کے صدر مسرور شاہ، جسقم رہنما ارباب بھیل، جئے سندھ قومی پارٹی کے سیکریٹری ہالار رتڑ، انڈیجینیئس الائنس کے رہنما سید خدا ڈنو شاہ، جسقم رہنما دیدار شام، انڈس لائیرز فورم کے رہنما عاقب راجپر، جئیے سندھ محاز(س) کے رہنما آدم بٹ، سندھی ادبی سنگت کے رہنما نعیم ملک، سید زین شاہ، تاج جویو، روشن علی برڑو، حیدر شاہانی، نواز شاہ بھادائی، ایس یو پی لائیرز فورم کے صدر میر احمد منگریو و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس پر اتفاق کیا گیا کہ سندھ ہمارا ہزاروں سالوں سے تاریخی وطن ہے جس کے وارث ہم سندھی ہیں۔حالیہ دنوں میں حیدرآباد میں نوجوان بلال کاکا کے بے رحمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ افغان پناہ گیر لاکھوں کی تعداد میں کراچی سمیت سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں آباد ہیں جس کی وجہ سے سندھ کی معیشت اور امن تباہ ہو چکا ہے اور سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جس میں سندھ حکومت مکمل طور پر سہولت کار بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ 15 سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت افغانوں اور دوسرے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ، ڈومیسائل، ووٹ، مالکانہ حقوق اور کاروبار کا حق دے کر خاص طور پر کراچی میں افغان پناہ گیروں کی کالونیاں اور گھوٹ ریگیولراز کر کے سندھ کے عوام کے ساتھ نا انصافی اور ظلم کرتی رہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے افغان پناہ گیر کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ، الٓاصف اسکوائر، ماڈل ٹاؤن اور خاص طور پر دوسری سندھی آبادیوں، اہم شاہراہوں اور کاروباری مراکز کے اوپر مسلح گروپ کے ذریعے حملے کر رہے ہیں جو کہ قابل مذمت ہے۔ سندھ پولیس اور رینجرز مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ افغان پناہ گیر سرعام ہتھیار اور افغانستان کے جھنڈے لے کر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو للکار رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں سندھ اور وفاقی حکومت کو نوٹس لے کر ان جو فوری گرفتار کر کے واپس افغانستان بھیجا جائے اور پورے سندھ کے تمام کاروباری مراکز میں مسلح گروپ، اور منشیات کے کاروبار کو ختم کیا جائے۔اجلاس میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا ہ اور دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے سندھ میں روزگار کرنے اور رہنے والے افراد اور دوسری قومیت کے افراد سے ہمارا کوئی تعصب نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے دوسرے صوبوں کے افرد کو سندھ میں مزدوری اور روزگار کا حق تو ہونا چائیے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں شہریت دینے کا اختیار صوبائی حکومت کو ہونا چاہئے اس لئیے دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے افراد کو ووٹ، ملکیت خرید کرنے اور ڈومیسائل اور پی آر سی کا اختیار نہیں ہونا چائیے۔ ہم دوسروں قومیت بالخصوص پختونوں کی قومی قیادت جو واضح کردینا چاہتے ہیں کہ وہ سندھ کے اس جائز مطالبے میں سندھ کے ساتھ کھڑے ہوں #/s#


