حیدرآباد واقعہ سازش ہے، محکوم اقوام کی یکجہتی ملک کو بحرانوں سے نجات دلاسکتی ہے، پشتون قومی جرگہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں پیش آنے والے انفرادی واقعہ پر سازشی تھیوری کے ذریعے محکوم ومظلوم اقوام کے درمیان فسادات کی راہ ہموار کی جارہی ہے، ایسے میں محکوم اقوام کی یکجہتی ہی ہمارے وطن کو درپیش بحرانوں سے نجات دلاسکتی ہے۔ اپنے عظیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سازشی عناصر کو یہ موقع فراہم نہ کرنا چائیے کہ وہ ہماری روایات کوتویں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ کے مقامی ہال میں منعقدہ پشتون قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرگہ سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و رکن اسمبلی اصغر خان اچکزئی، ملک مجید کاکڑ‘ بسم اللہ کاکڑ، ملک عنایت اللہ کاسی، زبیر شاہ، ڈاکٹر صوفی اکبر، ہارون بازئی، ابراہیم کاسی، اورنگزیب کاسی، ملا بہرام، جمعیت علماء اسلام کے نظریاتی امیر مولانا قادر لونی، سوشل ایکٹوسٹ جلیلہ حیدر، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی سربراہ فاطمہ خان، اے این پی کے رشید خان ناصر، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے احمد خان لالا، عبدالمتین اخونذادہ، طاہر ہزارہ، ڈاکٹر صادق زرک، انجمن تاجران کے قیوم آغا، حاجی نصر الدین،پار دین خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے جرگے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرگہ ایک تاریخی امانت ہے اور اس کے اپنے اصول ہیں ہمارا صوبہ سنجیدہ جرگوں کا وطن ہے جن کے ذریعے ہم اپنے مسائل کا سنجیدہ حل تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیش آنے والے واقعہ پر سازشی تیوری کے ذریعے سندھی اور پشتون محکموم اقوام کے درمیان فسادات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ ایسے صورتحال میں ہمیں چاہیے کہ ہم ان فسادات کی راہ ہموار کرنے والے عناصر کا راستہ روکنے کیلئے بلوچستان کی حقیقی سیاسی قیادت سندھ کی قیادت سے رابطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں پیش آنے والے واقعہ کے فوراً انہو ں نے جیئے سندھ متحدہ محاذ اور پشتون قیادت سے رابطے کئے ہیں۔ جرگہ مجھ پر جو ذمہ داری عائد کرے گا میں اس کے لئے بھی تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان،کے پی کے اور دیگر علاقوں کے پشتون سندھ میں اور سندھ کے لوگ بلوچستان میں آباد ہوکر محنت کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عظیم روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سازشی عناصر کو یہ موقع فراہم نہ کریں کہ وہ ہماری روایات کو توڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک میں مقامی قبائل کی جانب سے دیئے گئے دھرنے میں ان جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی آ کر خطاب کرجنہوں نے پانچ سالہ اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے جعلی قانون سازی کے ذریعے بلوچستان اسمبلی اور کابینہ سے ڈی ایچ اے کا ایکٹ منظور کروایا۔ موجودہ حکومت بلوچستان ہائی کورٹ کے اس فیصلے جس میں عدالت عالیہ نے بلا پیمودہ زمینوں کو قبائل کی ملکیت قرار دیا ہے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں گئی ہے اور اسمبلی میں موجود تمام اراکین سوائے نواب محمد اسلم خان رئیسانی کے حکومت کے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ اتحادی ہیں اگر وہ اس وطن اور یہاں کے لوگوں سے مخلص اور سنجیدہ ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ اسمبلی میں بل پیش کرکے اس ایکٹ کو ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچ پشتون اتحاد کے دائی ہیں اور کوشش ہے کہ اپنے اکابرین کے اس اتحاد کے تسلسل کو آگے بڑھاتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا احتساب کرتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی طرح ایک باوقار زندگی گزارنی ہے یا چاپلوسی کرکے وقت گزارنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سنجیدہ ہو کر اپنے وطن کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کا حل تلاش کرنا ہے۔ اگر ہم اب بھی سنجیدہ نہ ہوئے اورغیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو اس سے مزید تباہی اور بربادی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مظلومیت کا اظہار کرنے کے بجائے خود احتسابی کرکے یکجا ہونا پڑے گا۔ جیسے ہم تاریخ میں یکجا تھے۔ہماری یکجہتی ہی ہمارے وطن کو درپیش بحرانوں سے نجات دلائے گی۔ جرگے سے بلوچستان اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدم تشدد کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں نوجوانوں میں اس فکر اور نظریے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو افراد کے درمیان پیش آنے والے واقعہ کو لسانیت کی شکل دے کر سندھ میں لسانی فسادات کی راہ ہموار کرنے والوں سے میرا سوال ہے کہ آیا سندھی اور پشتون کو آپس میں کس با ت پر دست و گریباں کیا جا رہا ہے۔ عدالتیں موجودہیں جس نے جرم کیا ہے اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سازش ہو رہی ہے کہ لوگوں کو قومیتوں اور قبیلوں میں تقسیم کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے جائیں۔ نواں کلی کا واقعہ بلوچ پشتون فسادات کرانے کی کوشش تھی تا کہ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں اپوزیشن کی حکومت ہے 2023ء کے انتخابات قریب ہیں لوگوں کی خواہشات ہیں کہ وہ آئندہ حکومت میں آئیں انہوں نے کہ ریکورڈ ک کے ان کیمرہ اجلا س میں انہوں نے بحیثیت ایک سیاسی کارکن صوبے کے حقوق کے لئے اپنی آواز اٹھائی۔ جرگہ سے دیگر رہنماؤں حیدر آباد میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کو لسانی شکل دی جا رہی ہے۔ ہم امن کے قائل ہیں۔ نسلی اور لسانی تعصب پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم محکوم اقوام کی حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ فرد کی غلطی کو قوم سے نہ جوڑا جائے اگر کسی نے کوئی غلطی کی ہے تو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون سندھ میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ وہ وہاں قبضے کے لئے نہیں گئے۔ سندھ حکومت اور وہاں کی قوم پرست جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ان فسادات کا راستہ روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔


