کوئٹہ، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا، حکومت کے سامنے تین مطالبات پیش

کوئٹہ (انتخاب نیوز) لاپتہ افراد کے لواحقین کا زیارت واقعے کیخلاف گورنر و وزیراعلیٰ ہاو¿س کے سامنے احتجاجی دھرنے کا تیسرا روز۔ زیارت میں فیک انکاﺅنٹر میں پہلے سے لاپتہ کیے گئے افراد کو قتل کرنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے گورنر اور وزیراعلیٰ ہاﺅس کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، نشنل ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچ یکجہتی کمیٹی، بی ایس او، بی ایس او پجار اور بلوچ وومن فورم کا احتجاجی دھرنا اور تیسرے روز بھی جاری۔کسی بھی حکومتی شخصیت اور ادارے کی جانب سے لاپتہ افراد کے لواحقین کوئی شنوائی نہیں ہوسکی۔ مظاہرین نے اپنا دھرنا جاری رکھتے ہوئے حکومت کے سامنے اپنے تین مطالبات رکھے ہیں جس کے مطابق زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ تمام بلوچ لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے۔ بلوچ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں نہ مارنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔ واضح رہے کہ دھرنے میں خواتین اور بچے شریک ہیں جو گزشتہ تین روز سے آسمان تلے اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں