زیارت مقابلہ جعلی، فائز عیسیٰ کی نگرانی جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو بلوچستان بھر میں پہیہ جام کردیں گے، وی بی ایم پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ فار مسنگ پرسنز اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے کہا ہے کہ زیارت میں جعلی اپریشن کر کے ہمارے 9 افراد کو قتل کر دیا ان کے خلاف ہم نے ریڈ زون میں چار روز سے دھرنا دیا ہے حکومتی ارکان نے آنے تک زحمت نہیں کی حکومت اس واقعہ کی صاف وشفاف تحقیقات کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نگرنی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے نہ ہونے کی صورت میں منگل کے روز کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال کرینگے‘یہ بات بلوچ فار مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ‘ڈپٹی چیئرمین ماما قدیر بلوچ‘مہرنگ بلوچ‘اور لاپتہ افرا د کے لواحقین نے ریڈ زون میں دھرنے کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ا نہوں نے کہا کہ رواں ماہ 14 اور 15 جولائی کے درمیان زیارت کے مقام پر سیکورٹی فورسز کے جانب سے مقابلے کا دعوی کرتے ہوئے 9 افراد کو مارنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا، جب مارے گئے افراد کی لاشیں سول ہسپتال لائی گئیں اور ان کے تصویر وائرل ہوئے تو آہستہ آہستہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو علم ہوا کہ اس آپریشن میں جن افراد کی لاشیں ملی ہیں یہ پہلے سے ریاستی اداروں کے زیر حراست میں تھے۔ جب لاپتہ افراد کے خاندانوں نے اپنے اپنے پیاروں کی تلاش شروع کی تو پہلے مرحلے میں 5 افراد کی شناخت ہوئی جن میں انجینئر ظہیر بلوچ، ڈاکٹر مختیار بلوچ، شہزاد بلوچ، ساتکزئی اور سالم کریم شامل تھے انہوں نے کہا کہ حالیہ واقع اس بات کا ثبوت ہے کہ لاپتہ افراد سیکورٹی فورسز کے زیر حراست میں ہیں اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل متعدد دفعہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جعلی مقابلے میں لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ اس حالیہ غیر قانونی، غیر آئینی اور انسانیت سوز واقعے کے خلاف بلوچ سیاسی جماعتوں اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے شدید جبر و تشدد کا استعمال کیا گیا مگر ان مظالم کے باوجود یہ دھرنا وزیراعلی اور گورنر ہاؤس کے سامنے جاری ہے۔ ہمارے 3 بنیادی مطالبے ہیں جن میں زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت رہائی اور لاپتہ افراد کو اس بات کی یقین دہانی کہ پھر دوبارہ کبھی کسی بھی زیرحراست شخص کو جعلی مقابلوں میں نشانہ نہیں بنایا جائے گا، شامل ہیں انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ گزشتہ 3 دنوں سے گورنر ہاوس کے سامنے احتجاج جاری ہے اور اب تک کسی بھی حکومتی وفد نے سنجیدہ مذاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ پریس کانفرنس کی توسط سے بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم اور جبر کے خلاف بلوچستان بھر میں اظہار ہمدردی کیلئے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کریں جبکہ حکومت کو منگل تک کا وقت دیتے ہیں اگر انہوں نے دھرنے کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے اور اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی تو منگل سے بلوچستان بھر میں احتجاجی سلسلوں کا آغاز کیا جائے گا۔


