جوڈیشل کمیشن اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو یقین دہانی تک دھرنا جاری رہے گا، وی بی ایم پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) زیارت واقعے اور بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، بلوچ یکجہتی کمیٹی، نیشنل ڈیمو کریٹک، بی ایس او، بی ایس او پجار اور بلوچ وومن فورم کا مشترکہ دھرنا گورنر اور وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے ساتویں روز بھی جاری رہا۔ دھرنے میں ڈاکٹر دین محمد بلوچ، جمیل احمد سرپرہ،سعید احمد شاہوانی، ذاکر مجید، شبیر بلوچ، علی اصغر بنگلزئی، آصف بلوچ، راشد بلوچ کے اہلخانہ اور طلبا و سیاسی پارٹیوں سمیت مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میر کبیر محمد شہی، بلوچ نشنل پارٹی، پی ٹی ایم سمیت دیگر لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ احتجاج میں شامل تمام تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی طرف سے مذاکرات ڈی سی شہیک بلوچ کررہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت مذاکرات کرنے میں سنجیدہ نہیں، ایک ہفتہ سے صرف یہ بات کرتے آرہے ہیں کہ وزیراعلیٰ زیارت واقعے پر جوڈیشل کمیشن کے لیے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو تجویز دیں گے لیکن ان سات دنوں میں وزیراعلیٰ ابھی تک ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو کچھ بھی نہیں لکھ سکے جس کی مشترکہ طور پر مذمت کرتے ہیں۔ دھرنے میں شامل تمام تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا کہ ہمارا دھرنا جوڈیشل کمیشن اور بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو یقین دہانی تک جاری رہے گا، حکومت کی خاموشی برقرار رہی تو ہم اپنے احتجاج کو وسعت دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں