ججز کی تعیناتی میں چیف جسٹس کی جلد بازی سوالیہ نشان ہے، قاضی فائز عیسیٰ
اسلام آباد (انتخاب نیوز) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس پاکستان کو ججز تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس مو¿خر کرنے کے لیے خط لکھ دیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ ججز کی تعیناتی میں چیف جسٹس کی جلد بازی سوالیہ نشان ہے،سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا۔تفصیل کےمطابق شیڈول چھٹیوں میں اوپر نیچے تین جوڈیشل کمیشن کے اجلاس بلا ئے جانے کے چیف جسٹس کے فیصلے پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ 25 جولائی کو بیرون ملک سے چیف جسٹس کے نام لکھے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا،۔ آگے کیسے بڑھنا ہے،ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سینیئر ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے،سپریم کورٹ کا موسٹ سینئر جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا،چیف جسٹس کی طرف سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے،چیف جسٹس چاہتے ہیں2347 دستاویز کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے،یہ دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئی،واٹس ایپ کے زریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی،واٹس ایپ کے زریعے مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جا سکتے،یہ دستاویزات نہ مجھے کورئیر کیے گئے نہ ایمبیسی کے زریعے بھجوائے گئے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خط میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔


