عزیر بلوچ مزید تین مقدمات سے بری، ایرانی خفیہ ایجنسی سے ملاقات کی تصدیق

کراچی (انتخاب نیوز) کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے الزام ثابت نہ ہونے پر لیاری گینگ کے اہم کردار عزیربلوچ کو تین مقدمات سے بری کردیا ہے۔ لیاری گینگ وارکے اہم کردارعزیربلوچ مزید 3مقدمات میں بری کردیا گیا۔ اس کیخلاف 2مقدمات کلری اور ایک مقدمہ کلا کوٹ تھانے میں درج تھا۔ عزیربلوچ کےخلاف قتل اقدام قتل اورپولیس مقابلے کے مقدمات درج تھے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے لیاری گینگ وار کیخلاف الزام ثابت کرنے میں پھر ناکامی ظاہر کی گئی۔ عزیربلوچ اب تک 67 میں سے 21 مقدمات میں بری ہوچکا ہے۔ لیاری گینگ وار کے سرکردہ کردار عزیر بلوچ نے اپنے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ سابق صدرآصف زرداری کے کہنے پر اپنے گروہ کے 15 سے 20 لڑکے بلاول ہاﺅس بھیجے جنہوں نے بلاول ہاﺅس کے اطراف 30 سے 40 بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے۔ عزیر بلوچ کے اقبالی بیان میں بتایا گیا کہ پیپلزپارٹی رہنما اویس مظفر کو آصف زرداری کے لیے 14 شوگر ملوں پر قبضے میں مدد کی۔ بلاول ہاﺅس کے اطراف بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کروانے کی آصف زرداری نے انتہائی کم قیمت ادا کی۔ عذیر بلوچ کے بیان میں سابق صدرآصف زرداری، اویس مظفر، شرجیل میمن، قادر پٹیل اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماﺅں پرسنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ عذیربلوچ کے اقبالی بیان میں یہ بھی ہے کہ وہ ایرانی خفیہ ایجنسی کے حاجی ناصر کے ساتھ ایران گیا اور ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسران سے ملاقات کی اور کراچی میں قائم حساس اداروں کے دفاتر اور تنصیبات کے نقشے دیئے اور تصاویر دینے کا وعدہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں