میرا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، کبھی کسی ادارے کیخلاف کام نہیں کیا، انجینئر ظہیر بلوچ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) زیارت واقعے میں قتل کیے گئے انجینئر ظہیر احمد نے پیپلز پارٹی کے رہنما نور احمد بنگلزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں ایران میں قید تھا، رہائی ہونے کے بعد ایران بارڈر سے نوشکی تک آیا، نوشکی سے میں نے اپنے کزن کو فون کیا کہ مجھے ریسیو کرلیں میں آگیا ہوں۔ مجھے ریسیو کرتے ہی وہ حیران ہوگئے، مجھے علم نہیں تھا کہ یہاں کیا ہوا ہے۔ مجھ سے گلے مل کر روئے اور کہا کہ آپ تو قتل ہوچکے ہیں اور ہم نے آپ کی تو ہم نے فاتحہ خوانی کرلی ہے۔ میں ایک تعلیم یافتہ شخص ہوں، انجینئر ہوں، میری پوری فیملی تعلیم یافتہ ہے، میرا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، میں کسی ادارے کے خلاف ہوں نہ ہی میں نے کسی ادارے کیخلاف کام کیا ہے۔ مجھے بزنس میں دلچسپی ہے۔ میری فیملی کی جانب سے پریشانی کے عالم میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت کرتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے زندگی عطا کی۔ اس موقع پر ظہیر بلوچ کے بھائی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 18 تاریخ کو شام ہمیں پتا چلا کہ آپ کے بھائی کی لاش اسپتال میں پڑی ہوئی ہے، لاش پر تشدد کے نشانات تھے، جس کی ہم نے شناخت بھی کرلی، ہم نے شرعی طریقے سے ظہیر کی تدفین بھی کردی، سات آٹھ دن کے بعد ہمیں کزن کا فون آیا کہ آپ کا بھائی ہمارے پاس ہے، ہم گئے تو دیکھا ہمارا بھائی بیٹھا ہوا ہے۔ جو بھی ہو ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمارا بھائی زندہ ہے اور ہمارے سامنے ہے۔ اس موقع پر ظہیر بلوچ کے کزن نے کہا کہ زیارت واقعے کے بعد ہمیں فون آیا کہ ظہیر کی لاش اسپتال میں رکھی ہوئی ہے، ہم نے بہت کوشش کی لیکن ہم لاش کی شناخت نہیں کرسکے، لوگوں نے کہا کہ یہ ظہیر بلوچ ہے، پریشانی کے عالم میں ہم نے قبول کرلیا کہ لاش ظہیر کی ہے۔ اچانک ظہیر کا فون آیا کہ میں مستونگ میں ہوں میں بہت حیران ہوا، میں نے اسے مستونگ سے لایا اور اسے بتایا کہ آپ تو فوت ہوچکے ہو اور تمام واقعہ اسے بتایا۔


