جنرل باجوہ کا امریکیوں کو ٹیلی فون کرنے کا مطلب ہے ہم کمزور ہورہے ہیں، عمران خان

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات ٹھیک ہے کہ جنرل باجوہ امریکیوں کو ٹیلی فون کر رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ذریعے مدد کریں، اس کا مطلب تو ہم کمزور ہوتے جارہے ہیں۔ عمران خان نے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ آرمی چیف کا تو کام نہیں، کیا امریکا جب ہماری مدد کرے گا تو ہم سے کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ مجھے خطرہ ہے کہ ملک کی سیکورٹی کمزور ہوگی جو امریکا کی کئی دفعہ ڈیمانڈ آتی رہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ سیاسی استحکام تب آسکتا ہے جب صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں، اوپر جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، میری حکومت ختم ہوئی تو میں نے اور کچھ نہیں کیا عوام میں گیا، الیکشن اس وقت ہوجاتے تو آج ملک اس تباہی سے بچ جاتا، معیشت کی تباہی اس لیے بھی ہوئی کہ ان کا کوئی روڈ میپ ہی نہیں تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ صرف ایک راستہ ہے الیکشن نہیں صاف اور شفاف الیکشن، اس حکومت پر نہ دیگر ممالک کو اعتماد ہے نہ آئی ایم ایف کو، مجھے یہی لگتا ہے کہ اب آرمی چیف نے ذمہ داری لی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور بیٹی تو کہہ رہی تھیں کی الیکشن کراؤ اب یہ ڈرے ہوئے ہیں، جب انہوں نے سازش کی تو میں نے انتخابات کا اعلان کیا، جب پرویز الٰہی کی جیت کا نتیجہ آیا تو قوم سڑکوں پر نکلی، 14 سال لوگوں نے میری سیاست کا مذاق اڑایا، طعنے دیتے رہے، اس وقت سب سے خطرناک چیز مارکیٹ کا اعتماد ختم ہونا ہے، موجودہ صورت حال کا ذمہ دار کوئی تو ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ اپنے ملک میں اڈے دیں، ہمارا غریب ملک ہے کسی کی جنگ میں شرکت نہ کریں، میری ان سے ذاتی لڑائی نہیں، میرے تو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو سے اچھے تعلقات تھے، میرا مسئلہ تو کرپشن ہے جو یہ اقتدار میں آکر پیسہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ سے سمجھتا ہوں کہ پاکستان کیلئے مضبوط فوج کا ہونا ضروری ہے۔ عارف نقوی کو 20، 25 سال سے جانتا ہوں، عارف نقوی پاکستان کا بہت فائدہ کروا رہا تھا۔ عارف نقوی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عارف نقوی فنانشل ورلڈ کا وہ ٹیلنٹ تھا جس نے جیسے جیسے اوپر جانا تھا اس نے ہمیں فائدہ پہنچانا تھا، عارف نقوی کو 20، 25 سال سے جانتا ہوں، عارف نقوی پاکستان کا بہت فائدہ کروا رہا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں