معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ممکن نہیں، میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، وزیراعظم
اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ناممکن ہے، بطور وزیراعظم خلوص دل سے ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیش کش کررہا ہوں، وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے لہو سے لکھی گئی داستان کا عنوان پاکستان ہے، تحریک آزادی کے انگنت جانثاروں کو خراج عقیدت، اور پوری دنیا میں آباد ہر پاکستانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس جذباتی بحران کا ذکر کرنا چاہوں جس کا آج ہمیں سامنا ہے، یہ بحران خودی، خوداری، خود اعتمادی پر ہمارے یقین کا متزلزل ہونا ہے، جس کے اثرات آج ہمارے قومی وجود کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں، حالانکہ ہمارا قومی کردار، جذبے، ہمت، محنت اور کر دکھانے سے ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت خود پاکستان کا قیام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سیاسی قیادت نے قوم کو متفقہ آئین دے کر ایک قومی ایجنڈے پر اکٹھا کیا، ادارے بنائے، معیشت، زراعت، صنعت کو ترقی دی، قوم کو روزگار دیا، اور پاکستان کو دنیا میں قابل عزت بنایا، یہی وہ قوم ہے جس نے وسائل نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں جوہری پروگرام شروع کیا اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں دباؤ کے باوجود اسے مکمل کرکے قومی دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابل تسخیر بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم نے ہولناک زلزلوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کیا ہے، اسی قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم سر بلند کیا، حالیہ دنوں میں کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم اور نوح بٹ سمیت دیگر نے کامیابیاں حاصل کرکے پاکستان کو دنیا میں سربلند کیا، اسی قوم نے مل کر شدت پسندی کو شکست فاش دی، یہ ہمارے قومی عزم، ادارے اور اعتماد کی چند مثالیں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج قوم کو مایوسی کے ایک بحران کا سامنا ہے، انتشار اور نفرت کے بیچ بوئے جا رہے ہیں، قوم کو تقسیم در تقسیم، اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ پچھلی حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، آج مالی محتاجی جیسے ہماری قومی شناخت بن گئی ہے، جس کا ہمارے بزرگوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے مختصر وقت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے دن رات محنت کی جو اب بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، سابق حکومت نے 48 ارب ڈالر کا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ چھوڑا ہے، اس خسارے کو کم کرنے کے لیے ہمیں دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑا ہے، کیا یہ ہے حقیقی آزادی۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے پونے چار سال میں 20 ہزار ارب روپے کا تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا، جس کے سود کی آزادی بھی محال ہو چکی ہے، کیا یہ ہے حقیقی آزادی، 18-2017ء میں ہم پاکستان کو گندم میں خودکفیل چھوڑ کر گئے تھے، آج پچھلی حکومت کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ہم اربوں ڈالر کی لاگت سے گندم باہر سے منگوانے پر مجبور ہیں، کیا یہ ہے حقیقی آزادی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومت نے مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے ایل این جی کا کوئی طویل المدت معاہدہ نہیں کیا جو اس وقت انتہائی سستے داموں مل رہی تھی، آج لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی کی بنیادی وجہ یہی ہے، کیا یہ ہے حقیقی آزادی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ پچھلی حکومت نے کس کے اشارے پر سی پیک کے منصوبوں کو بند کرکے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، کیا یہ ہے حقیقی آزادی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہماری معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں غیر ضروری درآمدات کو سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی روپیہ دن بدن مضبوط ہورہا ہے، سادگی کو اپناتے ہوئے ہم خودار قوموں کی طرح اپنے وسائل پر انحصار کریں گے، اربوں ڈالر خرچ کرکے ہم باہر سے تیل اور گیس منگوا کر مہنگی بجلی پیداکرتے ہیں، اس کی جگہ ہم نے ہزاروں میگاواٹ سولر انرجی کے منصوبے لگانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے ایک طرف اربوں ڈالر کی بچت ہوگی، جبکہ دوسری طرف عوام کو سستی بجلی بھی مہیا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خودانحصاری کے راستے پر لے کر جائیں گے کیونکہ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ناممکن ہے، اسی لیے میں نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیش کش کی تھی، اور بطور وزیراعظم آج ایک بار پھر خلوص دل سے اس کی پیش کش کررہا ہوں، وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں۔


