ہرنائی خوست میں احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کے ذمے داروں کو سزا دی جائے، این ڈی ایم
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی بیان میں ضلع ہرنائی کے خوست میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے عوام کے گھروں پر گزشتہ رات کو فائرنگ اور گزشتہ روز دن دہاڑے خوست میں عوامی جمہوری اور پرامن احتجاج پر فائرنگ کرکے نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کو جاں بحق اور معصوم بچے سمیت 8 افراد کو شدید زخمی کرنے کے ریاستی عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث افراد کیخلاف قتل اور اقدام قتل کے مقدمات درج کرنے اور ملکی آئین و قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ رات کو خوست میں سیکورٹی فورسز نے رات بھر عوام کے گھروں اور ہرنائی سے کوئٹہ جانے والی کار پر فائرنگ کرکے معصوم بچے سمیت 5 افراد کو شدید زخمی کیا۔ اس اقدام کیخلاف عوام نے کوئٹہ ہرنائی شاہراہ پر خوست کے مقام پر پرامن احتجاجی دھرنا دیا جس پر سرعام دوبارہ انہی فورسز نے فائرنگ کرکے خالق داد بابر کو جاں بحق اور دیگر 3 نوجوانوں کو زخمی کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک عرصہ سے ضلع ہرنائی کے شاہرگ اور خوست میں کوئلے کے ذخائر پر سیکورٹی فورسز نے قبضہ کرکے عوامی آبادیوں کو محاصرے میں رکھا ہے اور آئے روز عوام پر تشدد،کول مائنز مزدوروں اور ٹھیکیداروں کو اغوا و قتل کرنے، بھتہ گیری، چادر چاردیواری کے تقدس کی پامالی کے واقعات جاری ہیں اور اسی پالیسی کے تسلسل میں گزشتہ رات اور دن کے بدترین اقدامات کیے گئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ریاستی اقدام کیخلاف خوست میں نوجوان خالق داد کی لاش کے ہمراہ عوام اور تمام سیاسی پارٹیوں کا دھرنا جاری ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اس احتجاج کا حصہ ہے۔جو اس واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف قتل کے مقدمات درج کرنے، سیکورٹی فورسز کو ضلع ہرنائی کے تمام عوامی آبادیوں سے نکال باہر کرنے اور ضلع کے اختیارات ایف سی سے لیکر سول انتظامیہ کے حوالے کرنے تک جاری رہیگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 15 اگست کو اس ریاستی ظلم کیخلاف پورے جنوبی پشتونخوا میں دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملکر احتجاج کیا جائیگا۔


