بے حس سماج
تحریر: نصیر بلوچ
گزشتہ دنوں آواران کے ایک نامور عالم مولانا محمد خان نامی شخص تقریباً 80 اور 90 کے درمیان واٹس اپ وائسز وائرل ہوئے تھے۔ وائس میں مولانا کسی لڑکی سے انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہ وائسز وائرل ہونے سے لیکر آج تک میں نے اس موضوع کو اس لئے چھیڑنا ضروری نہیں سمجھا کہ یہ ایک خالص شرعی معاملہ ہے اور اسے شرعی رو سے مولوی ہی حل کریں تو بہتر ہے۔ اس درمیان دوستوں کے گلے شکوے حق بجانب ہیں۔ معاشرے کی بے حسی کا اندازہ کسی سماج کے ردعمل سے لگایا جاتا ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ معاملہ بلوچستان کا ایک سب سے بڑا اسکینڈل ہے، قطع نظر کہ آئے روز اس طرح کے سینکڑوں کیسسز نکل آتے ہیں لیکن کسی نامور عالم دین کا کیس ایک غیر معمولی بات ہے۔ جب وائس ہم تک پہنچی تو کئی دوستوں نے اس مسئلے کو دبانے کا کہا، چونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے اور اس ڈیجیٹل دور میں چیزوں کو چھپانا ممکن بھی تو نہیں اس لئے لاکھ چھپائے کچھ ہی دنوں میں وائسز وائرل ہوگئیں۔ ہر طرف خواہ وہ سوشل بحث و مباحثے ہوں یا ہوٹل میں بیٹھ کر چائے کی پہلی چسکی لئے پہلا لفظ ہی ہو وہ اسی پر منسلک تھا۔ مجھے کوئٹہ سے کئی لوگوں نے کالز کیں اور کئی دیگر شہروں سے متعدد کالز موصول ہوئیں جن کا واسطہ یا بالواسطہ اس معاملے سے تعلق تھا اور ہو بھی کیوں نہیں چونکہ یہ ایک سماجی اور اپنی نوعیت کا سنگین مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ میرا انتظار کا دامن یوں لبریز ہوا کہ آج اس پر آواران میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں لوگوں نے بھر پور شرکت کی، پر ابھی تک اس معاملے پر کسی سیاسی پارٹی کا بیان سامنے نہ آنا قابل افسوس اور میری توجہ کا مرکز بنا جو ایک سنوارے معاشرے کے روح میں گرِتی دیوار ثابت ہوئی۔
یقین کیجیے پوچھنے پر وہ چند تیکھی باتیں کرکے دوسروں کو غلط گرداں کر خود کو بری الذمہ قرار دیں گے لیکن کوئی منطقی بات ہو تو بندہ پھر بھی مان لے۔ گزشتہ دن آواران میں مولویوں نے ایک جرگے کا انعقاد کیا اور اس پر تمام صاحبِ علم لوگوں نے ایک متفقہ رائے سے ایک فیصلہ تحریری طور پر سوشل میڈیا پر داغ دیا، ہاں یقیناً وقتی طور پر میرے لئے فیصلے کو رد کرنا کافی مشکل تھا چونکہ پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں میں ایک گاڈ فیئرنگ اور مذہب کے معاملے میں انتہائی محتاط ہوں۔ بعد میں جاکر سوچ و بچار اور مشورے کے بعد فیصلے میں کچھ ترمیم اور بہتری کی گنجائش ڈھونڈ نکال لی۔ ایک شکوہ اور بھی ہے کہ فیصلے میں سماجی اور صحافی اور دیگر سیاسی، خیر سیاسی نہیں کہوں گا کہ ان کا تو یہ دردِ سر ہی نہیں، انہیں اس معاملے سے کچھ پڑی ہی نہیں بہرحال اگر کہی دیگر سماجی شخصیات کو ساتھ بٹھا لیتے تو معاملہ اتنی گمبھیر شکل اختیار نہیں کرتا اور آج کے احتجاج کی نوبت بھی نہیں آتی شاید۔ چونکہ اس میں اگر ہوٹل والا ارشاد شامل ہوکر اپنی رائے دیتا تو پھر کیوں کر وہ احتجاج کرتا؟ بہرحال آواران بازار میں مولانا کیخلاف احتجاجی ریلی کے مطالبے جائز ہیں اور ہم اسکی حمایت بھی کرتے ہیں اور یقین ملوث افراد کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔
سارا بلوچستان مسائل کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، اوپر سے اس سیلابی بارشوں نے بچی کچھی کسر بھی پوری کردی ہے۔ اب بلوچستان زمین بوس ہوگیا ہے، عمارتیں ڈھیر ہوگئی ہیں، لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ ضلعی سطح سے لیکر صوبائی سطح تک اپوزیشن کی طرف سے کوئی سیاسی مزاحمت نہیں کوئی بیان بازی تک نہیں، ہاں البتہ حکومت صرف بیان بازی تک ہی محدود ہے۔ بینظیر پروگرام کے تحت بلوچستان سیلاب سے متاثرین کے لئے امدادی رقم میں بھی ناجائز کٹوتی کی جارہی ہے لیکن حکومتی بے حسی اور ضلعی انتظامیہ کی بے بسی سے کسی کارروائی کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔
عبدالقدوس بزنجو اپنا سارا ملبہ ضلعی انتظامیہ پر ڈال دیتے ہیں۔ نیند سے اٹھ کر اے سی، ڈی سی کو معطل کرکے ایکشن میں رہنے کا بس ایک شوشہ چھوڑتے ہیں۔
بلوچستان آفت زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ نمائندہ زدہ بھی ہے۔ ہر طرف سیلاب کی تباہ کاریوں سے لوگوں کی چیخیں نکل چکی ہیں۔ لوگ بے یار و مدد گار پڑے ہیں، مزید کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کی ان میں سکت نہیں بچی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارشیں متوقع ہیں۔


