بلوچستان کو گیس کی فراہمی چوتھے روز بھی معطل، لائنوں کی مرمت شروع نہیں ہوسکی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کو سوئی سدرن گیس کی فراہمی چوتھے روز بھی معطل رہی شہری مہنگے داموں ایل این جی گیس اور لکڑیاں خرید کر گزارا کرنے پر مجبور ہوگئے گیس پائپ لائنوں کی مرمت کا کام تاحال شروع نہیں کیا جاسکا ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کوسوئی گیس فراہم کرنے والی 24انچ قطر کی پائپ لائن 19اگست کو بولان میں سیلاب کے باعث متاثر ہوگئی تھی جسکی وجہ سے پائپ لائن سے گیس کی سپلائی معطل ہوگئی تھی تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کی جانب سے صوبے کو بولان سے گزرنے والی 12انچ قطر کی پائپ لائن سے گیس سپلائی کی جارہی تھی جو 25اگست کے سیلابی ریلے میں بولان کے مقام پر بہہ گئی تھی جبکہ اسی روز کوئٹہ شہر کے بعض علاقوں کو زرغون گیس فیلڈ سے ملنے والی گیس بھی پائپ لائن متاثرہو نے کے باعث سپلائی تعطل کا شکار ہوگئی تھی ۔اس حوالے سے سوئی گیس حکام سے رابطہ کرنے پر ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی نے این این آئی کو بتایا کہ بولان میں بی بی نانی کے مقام پر دوپائپ لائنز متاثر ہوئی ہیں جنکی مرمت کے لئے ٹیم بولان میں موجود ہے تاہم ندی میں پانی کا بہاﺅزیادہ ہونے اور سڑکیں متاثر ہونے کے باعث مشینری متاثرہ مقامات پر نہیں پہنچ پا رہی جس کی وجہ گیس پائپ لائنوں کی مرمت کا کام شروع نہیں ہوسکا ۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کے علاقے کینٹ، سیٹلائٹ ٹاﺅن، اےئر پورٹ روڈ کو زرغون گیس فیلڈ سے گیس سپلائی کی جارہی تھی جوکہ انتہائی کم مقدار میں 7ایم ایم سی ایف تک تھی تاہم یہ پائپ لائن بھی سیلاب کے باعث متاثر ہوئی ہے جسکی وجہ سے گیس سپلائی معطل ہوگئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سوئی گیس کی ٹیمیں آج پیر کو دوبارہ بولان میں اس مقام پر جائیں گی جہاں پائپ لائن متاثر ہوئی ہے اگر صورتحال بہتر ہوئی تو پائپ لائنوں کی مرمت کا کام شروع کردیا جائےگا تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں کو گیس سپلائی کتنے دن میں بحال کی جائےگی ۔انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی صارفین کو جلد ازجلد گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے ۔دوسری جانب کوئٹہ میں چوتھے روز بھی شہری ایل این جی اور لکڑیوں کے حصول کی تگ و دو میں لگے رہے اس دوران شہریوں کو مہنگے داموں گیس اور لکڑی خریدنی پڑی جس کی وجہ سے شہری مشکلات کا شکار رہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں