مطالبات منظور نہ ہونے پر احتجاجی تحریک کو وسعت دیں گے، خوست دھرنا کمیٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے خوست احتجاجی دھرنا کمیٹی کے رہنماؤں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ولی داد میانی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصرت اللہ، جمعیت علما اسلام کے حافظ احسان الحق، پشتون تحفظ موومنٹ کے وہاب خان، تحریک انصاف کے عبدالحکیم، جمعیت علما اسلام پاکستان کے حافظ عطا محمد اور حاجی لونگ بابر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ 13 اور 14 اگست کو خوست میں عوام کے گھروں اور پرامن احتجاج پر فائرنگ اور نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کو جاں بحق اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعہ کیخلاف، عوامی مطالبات کے حق میں خوست میں احتجاجی دھرنا 16 ویں روز بھی جاری رہا جو مطالبات کے حل تک جاری رہیگا، احتجاجی تحریک کو دوسرے اضلاع میں بھی شروع کرکے دھرنے کو کوئٹہ منتقل کیا جائیگا، کیونکہ حکومت اور صوبائی انتظامیہ نے مذاکرات کے دوران تسلیم شدہ مطالبات کو عملی بنانے اور احکامات جاری کرنے میں تاخیری حربے اور سرد مہری کا طرز عمل جاری رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا کمیٹی اور صوبائی حکومت کی کمیٹی جو صوبائی وزرا، اعلیٰ انتظامی آفیسران پر مشتمل تھی کہ مابین مذاکرات کے دوران ضلع ہرنائی خوست کے عوام کے برحق مطالبات پر اتفاق کرکے اسے عملی بنانے کیلئے فوری احکامات کی یقین دہانی کرائی گئی جس میں خالقداد کی ہلاکت اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعے میں ملوث افراد کیخلاف قتل اور اقدام قتل کے مقدمات درج کرنے، ضلع ہرنائی کے تمام عوامی مقامات اور آبادی سے فوج اور ایف سی کے مورچے ہٹانے، ضلع میں کول مائنز اور دیگر کاروبار اور تجارت پر جاری بھتا گیری سمیت دیگر حقائق منظر عام پر لانے کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پر اقدامات اٹھانے، ضلع میں سول انتظامیہ کے اختیارات بحال کرکے اس میں فورسز کی مداخلت بند کرنے اور خالقداد بابر کو حکومتی سطح پر شہید قرار دے کر ان کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ دینے کے آئینی و قانونی اور جمہوری مطالبات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں