بنیادی سہولیات سے محروم پنجگور ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی
پنجگور (انتخاب نیوز) پنجگور ٹیچنگ ہسپتال 6 لاکھ کی آبادی کی واحد امید ڈاکٹروں کی کمی کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا سیکنڈ اور ایوننگ شفٹ میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے، ایمرجنسی میں آنے والے مریض رل رہے ہیں، سیکنڈ شفٹ میں ہسپتال کا پورا نظام پیرا میڈیکس اور درجہ چہارم کے ملازمین کے سپرد، سیکرٹری صحت بھی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام، ایک ماہ کے دوران 40 ڈاکٹروں کی پوسٹنگ کرنے کے دعویدار ایک بھی ڈاکٹر نہیں بھیج سکے، الٹا ہسپتال میں پہلے سے موجود ڈاکٹر یکے بعد دیگر اپنی ٹرانسفر کروا رہے ہیں، اب ہسپتال میں صبح کے اوقات صرف پانچ ڈاکٹرز او پی ڈی میں موجود ہیں جن میں ایک ہارٹ کا، ایک چائلڈ اسپیشلسٹ، ایک ڈینٹل اور دو جنرل فزیشن اور ایک جلد کے ڈاکٹر کی پوسٹنگ ہے، ایمرجنسی جہاں سیکنڈ شفٹ میں کم وبیش ڈیلی دو سو سے اوپر مریض آتے ہیں، انکے لیے صرف پیرامیڈیکس کی ڈیوٹیاں ہیں اور پورے ایمرجنسی شعبے میں ایک بھی فی میل اسٹاف تعینات نہیں ہے پنجگور میں ڈاکٹروں کے بحران کی وجہ سے عوام شدید مشکلات اور ذہنی کرب سے گزر رہے ہیں، جب کوئی ایمرجنسی ہوتی ہے تو اس دوران لوگوں کو مجبوراً مریض کو 700 کلو میٹر دور کراچی یا کوئٹہ منتقل کرنا ہوتا ہے، جو راستے کی دشواریاں اور پچیس سے تیس ہزار روپے پرائیویٹ ایمبولنسز کو ادا کرنے کے بعد پہنچ پاتا ہے۔ پنجگور کے عوامی اور سماجی حلقوں نے بارہا ہسپتال کے معاملات پر سوالات اٹھائے ہیں اور سیکرٹری ہیلتھ نے دو ماہ قبل چالیس ڈاکٹر بھیجنے کا اعلان بھی کیا تھا، مگر ان کے اعلانات ہوا ہوگئے۔


