سندھ کے سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد حب اور وندر پہنچ گئی

حب(نمائندہ انتخاب) سندھ سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد حب اور وندر پہنچ گئی لسبیلہ کے عوام پہلے خود ہی سیلاب سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں اور یہاں پر معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں تاہم سندھ سے آنے والے ہزاروں کی تعداد میں سیلاب متاثرین کی آمد سے مسائل گھمبیر ہونے کے خدشات ہیں اس حوالے سے عوامی حلقوں نے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے مختلف علاقوں سے سیلاب متاثرین کی ایک بڑی تعداد حب اور وندر پہنچی ہے جبکہ اس بار ضلع لسبیلہ کے عوام خود بھی پہلے سے سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے بُری طرح سے متاثر ہوئے ہیں اور اب بھی معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں اور بحالی کا کام شروع نہ ہو سکا ہے اور پہلے سے مصیبت زدہ لوگوں پر نئے سیلاب زدگان کی آمد سے یہاں کے مسائل مزید گھمبیر ہونے کے خدشات ہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل 2010؁ء میں اندرون سندھ کے مختلف علاقوں سمیت سندھ صوبہ کی سرحدی پٹی سے ملحقہ اندرون بلوچستان کے ہزاروں افراد سیلاب سے متاثر ہو کر حب سمیت وندر اوتھل اور بیلہ میں پناہ گزین ہوئے جو کہ بعدازاں سیلاب ختم ہونے کے بعد انکی اکثریت اپنے گھروں کو واپس جانے کے بجائے انہی علاقوں میں آباد ہو گئی جس سے نہ صرف لسبیلہ کے ان علاقوں میں آبادی میں اضافہ ہو ااور دستیاب وسائل کم پڑگئے اسکے ساتھ سیلاب زدگان کی آڑ میں آنے والے جرائم پیشہ گینگز بھی حب اور دیگر علاقوں میں آباد ہوکر جرائم کرنے لگے جسکی وجہ سے علاقے میں جرائم کی شرح میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا اور آبادی میں اضافے کا دباؤ اور بڑھتے ہوئے جرائم کی سزا اب بھی یہاں کے مقامی افراد بھگت رہے ہیں عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور دیگر بالا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اندرون سندھ سے آنے والے متاثرین کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے اور انہیں شہری آبادی میں سکونت دینے کے بجائے مخصوص مقامات پر پناہ دیکر انہیں واچ لسٹ میں شامل کیا جائے اور اندرون سندھ سیلابی صورتحال میں کمی ہوتے ہی ان لوگوں کو واپس انکے علاقوں میں واپس بھجوانے کے انتظامات کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں